ٹوکیو۔21اگست (اے پی پی):چین شمسی توانائی کے پرووسکائٹ سولر سیلز کے لیے ایک ریسرچ پاور ہاؤس کے طور پر ابھر رہا ہے جو کہ موجودہ مین سٹریم ٹیکنالوجی کا متبادل ہے ،یہ قابل تجدید توانائی کو زیادہ وسیع بنا سکتی ہے۔ ٹوکیو میں ڈیٹا فراہم کرنے والے ادارے ’’فرنٹیو ‘‘کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق چین نے 2019 سے 2023 کے دوران پانچ سال میں پرووسکائٹ سیلز پر 5,500 سے زیادہ …
چین پرووسکائٹ سیلز پر تحقیق میں نمبر ون ، ساڑھے پانچ ہزار بین الاقوامی مقالے جاری

مزید خبریں
ٹوکیو۔21اگست (اے پی پی):چین شمسی توانائی کے پرووسکائٹ سولر سیلز کے لیے ایک ریسرچ پاور ہاؤس کے طور پر ابھر رہا ہے جو کہ موجودہ مین سٹریم ٹیکنالوجی کا متبادل ہے ،یہ قابل تجدید توانائی کو زیادہ وسیع بنا سکتی ہے۔
ٹوکیو میں ڈیٹا فراہم کرنے والے ادارے ’’فرنٹیو ‘‘کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق چین نے 2019 سے 2023 کے دوران پانچ سال میں پرووسکائٹ سیلز پر 5,500 سے زیادہ بین الاقوامی تعلیمی مقالے تیار کیے جو کہ اس ٹیکنالوجی پر کام کرنے والے سرفہرست 10 ممالک کے مقالوں کا تقریباً 30 فیصد بنتاہے، دوسرے نمبر پر امریکا ہے جس نے تقریباً 3,400 اور تیسرے نمبر پر جنوبی کوریا ہے جس نے پرووسکائٹ سولر سیلز پر 1,460 بین الاقوامی تعلیمی مقالے تیار کیے ، تاہم جاپان میں تقریباً 820 پیپرز جاری ہوئے ۔
پرووسکائٹ سولر سیلز نمایاں طور پر ہلکے، پتلی فلم والے لچکدار سیلز ہوتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں بیرونی دیواروں اور برقی گاڑیوں کی چھتوں جیسی سطحوں پر نصب کرنا آسان ہوتا ہے۔ 2009 میں جاپان کے زیرقیادت ٹیم کے ذریعے ان سیلز کی ترقی کے بعد سے بیرونی دنیا میں پرووسکائٹ سیلز شمسی پینلز کی تحقیق کا تقریباً 80فیصد موضوع رہے ہیں۔فرنٹیو تجزیہ میں 2010 اور مارچ 2022 کے درمیان شائع ہونے والے پیرووسکائٹ سیلز پر 38,000 سے زیادہ مقالے شامل تھے۔








