میلان۔11فروری (اے پی پی):چین کی ویمن سپیڈ سکیٹر ین چی نے کہا ہے کہ وہ مستقبل میں طویل عرصے تک اولمپک میدان کا حصہ رہنا چاہتی ہیں، چاہے بطور کھلاڑی یا بعد ازاں کوچ کے طور پر۔شنہوا کے مطابق 33 سالہ ین چی نے خواتین کی 1000 میٹر ریس میں ایک منٹ 15.87 سیکنڈ کے وقت کے ساتھ 12ویں پوزیشن حاصل کی، جو بیجنگ 2022 سرمائی اولمپکس میں ان کی …
چین کی سپیڈسکیٹر ین چی کی نظریں طویل المدتی اولمپک سفر پرمرکوز

مزید خبریں
میلان۔11فروری (اے پی پی):چین کی ویمن سپیڈ سکیٹر ین چی نے کہا ہے کہ وہ مستقبل میں طویل عرصے تک اولمپک میدان کا حصہ رہنا چاہتی ہیں، چاہے بطور کھلاڑی یا بعد ازاں کوچ کے طور پر۔شنہوا کے مطابق 33 سالہ ین چی نے خواتین کی 1000 میٹر ریس میں ایک منٹ 15.87 سیکنڈ کے وقت کے ساتھ 12ویں پوزیشن حاصل کی، جو بیجنگ 2022 سرمائی اولمپکس میں ان کی 15ویں پوزیشن سے بہتر کارکردگی ہے۔ریس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آج میں ذہنی طور پر کافی پرسکون تھی۔
تکنیکی پہلوؤں سے لے کر حکمتِ عملی اور توانائی کی تقسیم تک سب کچھ منصوبے کے مطابق رہا۔بیجنگ اولمپکس کے بعد ین چی نے بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا اور کینیڈا میں یونیورسٹی سے وابستہ تربیتی پروگرام میں شمولیت اختیار کی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں کوچنگ کے شعبے میں بھی کردار ادا کرنا چاہتی ہیں اور کئی اولمپکس تک کھیل سے وابستہ رہنے کا خواب رکھتی ہیں۔انہوں نے کہامیں چینی سپیڈ سکیٹنگ کے لیے مزید بہتری لانا چاہتی ہوں۔ دنیا میں ایسے کوچز موجود ہیں جو 6، 10یا 11 اولمپکس کا حصہ رہ چکے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ ہر اولمپکس میں کسی نہ کسی صورت برف پر موجود رہوں۔
ین چی کے مطابق بیرونِ ملک تربیت کا تجربہ اگرچہ مشکل تھا، مگر اس سے ان کی سوچ اور تجزیاتی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئی۔ انہوں نے حالیہ ریس میں 500 میٹر کی سپرنٹ تکنیک کو آزمایا، جسے وہ ایک تکنیکی تجربہ قرار دیتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ میں نے مختلف کھلاڑیوں کے انداز دیکھے اور کچھ عناصر اپنانے کی کوشش کی۔ اگر معمولی سی بہتری بھی ملے تو وہ فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ین چی کا کہنا ہے کہ میلان کورٹینا اولمپکس ان کے کیریئر کا اختتام نہیں بھی ہو سکتا۔کبھی کبھی کچھ بھی ممکن ہے۔ فی الحال میں اگلی ریس پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہوں اور ہر میٹر بہترین انداز میں طے کرنا چاہتی ہوں۔








