چین کے ژیننگ انٹرپرائز اور گوادر پورٹ اتھارٹی کے درمیان گوادر پورٹ اور اس کے فری زون میں بڑی صنعتی اور تجارتی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لئے لیٹر آف انٹینٹ پر دستخط

اسلام آباد۔5اگست (اے پی پی):چین کے ژیننگ انٹرپرائز نے گوادر پورٹ اتھارٹی (جی پی اے) کے ساتھ گوادر پورٹ اور اس کے فری زون میں بڑی صنعتی اور تجارتی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے لیٹر آف انٹینٹ پر دستخط کیے ہیں جو تجارتی اور اقتصادی سرگرمیوں کے لیے ایک اہم علاقائی مرکز کے طور پر گوادر کے بڑھتے ہوئے کردار کی نشاندہی کرتا ہے۔ منگل کو دستخط کیے …

اسلام آباد۔5اگست (اے پی پی):چین کے ژیننگ انٹرپرائز نے گوادر پورٹ اتھارٹی (جی پی اے) کے ساتھ گوادر پورٹ اور اس کے فری زون میں بڑی صنعتی اور تجارتی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے لیٹر آف انٹینٹ پر دستخط کیے ہیں جو تجارتی اور اقتصادی سرگرمیوں کے لیے ایک اہم علاقائی مرکز کے طور پر گوادر کے بڑھتے ہوئے کردار کی نشاندہی کرتا ہے۔ منگل کو دستخط کیے گئے لیٹر آف انٹینٹ میں متنوع منصوبوں کے منصوبوں کا خاکہ پیش کیا گیا۔ان منصوبوں میں گوادر پورٹ کو علاقائی ٹرانس شپمنٹ سینٹر کے طور پر ترقی دینا، نئے صنعتی منصوبوں کا آغاز، گوادر فری زون کے اندر موجودہ سہولیات کو بہتر بنانا اور صنعتوں کو منتقل کرنا شامل ہیں۔آل چائنا فیڈریشن آف انڈسٹری اینڈ کامرس کے ڈائریکٹر یی جیانگ کی سربراہی میں چینی تجارتی وفد نے بھی وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری سے ملاقات کی جس میں گوادر پورٹ کی کارکردگی کو بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔

وفاقی وزیر نے گوادر کی سٹریٹجک اہمیت کو مضبوط بنانے میں شراکت داری کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے بندرگاہ کے تھرو پٹ کو فروغ دینے، غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور خطے کی وسیع تر اقتصادی ترقی میں حصہ ڈالنے کے لیے ژیننگ انٹر پرائز کی صلاحیت کو اجاگر کیا۔ فریقین نے گوادر کی بندرگاہ اور فری زون آپریشنز کو کنٹرول کرنے والے پاکستان کے قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک کی پابندی کرنے کا عہد کیا۔ انہوں نے سرمایہ کاری کے مواقع کی نشاندہی، آپریشنل تفصیلات کو حتمی شکل دینے اور تعاون کے لیے میکانزم قائم کرنے کے لیے نیک نیتی سے بات چیت جاری رکھنے کا بھی عہد کیا۔وفاقی وزیر جنید چوہدری نے گوادر کو عالمی میری ٹائم گیٹ وے اور صنعتی پاور ہائوس میں تبدیل کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ معروف بین الاقوامی اداروں کے ساتھ اشتراک سے پاکستان کے بحری اور اقتصادی عزائم میں تیزی آئے گی۔