اسلام آباد ۔ 21 مارچ (اے پی پی) مصر کے مفتی اعظم ڈاکٹر شوقی ابراہیم عبدالکریم نے پاکستان کے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف متفقہ بیانیے ”پیغام پاکستان“ کی مکمل حمایت اور توثیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو کافر قرار دینا گمراہ کن سوچ ہے، فتوے دینا غاروں میں بیٹھنے والے عسکریت پسندوں کا نہیں نور محمدی سے مستفید ہونے والے مفتیوں کا کام ہے،، ہمیں داعش …
ڈاکٹر شوقی ابراہیم عبدالکریم کا اسلامی نظریاتی کونسل میں منعقدہ گول میز کانفرنس سے خطاب
اسلام آباد ۔ 21 مارچ (اے پی پی) مصر کے مفتی اعظم ڈاکٹر شوقی ابراہیم عبدالکریم نے پاکستان کے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف متفقہ بیانیے ”پیغام پاکستان“ کی مکمل حمایت اور توثیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو کافر قرار دینا گمراہ کن سوچ ہے، فتوے دینا غاروں میں بیٹھنے والے عسکریت پسندوں کا نہیں نور محمدی سے مستفید ہونے والے مفتیوں کا کام ہے،، ہمیں داعش جیسے عناصر کا مقابلہ کرنے کیلئے فکری محاذ پر جنگ کا آغاز کرنا ہوگا، سب سے اولین ضرورت اپنی نوجوان نسل سے م¶ثر انداز میں بات کرنا ہے جس کیلئے ہمیں انٹرنیٹ کی دنیا میں جانا ہوگا۔ بدھ کو اسلامی نظریاتی کونسل میں ”پیغام پاکستان دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف متفقہ بیانیہ“ کے عنوان سے منعقدہ گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصر کے مفتی اعظم نے کہا کہ پاکستان آنا ان کیلئے باعث اعزاز اور باعث سعادت ہے، اس محفل میں بڑے بڑے علماءاور اہل علم سے ملاقات بھی کسی اعزاز سے کم نہیں، میں اپنے دل کی آواز اور جذبات آپ کو پہنچا کر انتہائی خوش ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں احساس ہے کہ پاکستانی علماءنامساعد حالات میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں، پاکستان اور مصر سمیت عالم اسلام کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے، ان نامساعد حالات اور چیلنجز میں علماءکا کردار لائق تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف پاکستان کا متفقہ بیانیہ ”پیغام پاکستان“ بھی اسی اسلامی سوچ سے ہم آہنگ ہے جو مصر میں پائی جاتی ہے، دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جنگ ہم سب کی مشترکہ جنگ ہے کیونکہ ہم کسی ایک خطہ یا ملک کے نہیں اسلام کے علماءہیں، پاکستان کا یہ پیغام بین الاقوامی اجتماعی کوشش کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”پیغام پاکستان“ میں جن بڑے چیلنجز جن میں ریاست کے تحفظ کی بات کی گئی ہے، پاکستان اور مصر سمیت کوئی بھی اسلامی ملک ہو، اس کا تحفظ شرعی تقاضہ ہے۔









