اسلام آباد۔20اکتوبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کا اجلاس چیئرمین رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر مہیش کمار ملانی کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے کمیٹی روم نمبر 7 میں منعقد ہوا۔ اجلاس کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا۔ چیئرمین نے معزز اراکین کا خیرمقدم کیا اور عوامی صحت اور ریگولیٹری امور پر ان کی مسلسل دلچسپی اور شمولیت کو سراہا۔ کمیٹی نے اپنی …
ڈاکٹر مہیش کمار ملانی کی زیرِ صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کا اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد۔20اکتوبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کا اجلاس چیئرمین رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر مہیش کمار ملانی کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے کمیٹی روم نمبر 7 میں منعقد ہوا۔ اجلاس کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا۔ چیئرمین نے معزز اراکین کا خیرمقدم کیا اور عوامی صحت اور ریگولیٹری امور پر ان کی مسلسل دلچسپی اور شمولیت کو سراہا۔ کمیٹی نے اپنی سابقہ سفارشات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا، جس میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کے دو ملازمین کی ترقی میں غیرمنصفانہ تاخیر کا معاملہ بھی شامل تھا۔ یہ نوٹ کیا گیا کہ دونوں ملازمین ایف آئی اے اور وزارت کی جانب سے کلیئر ہو چکے ہیں، لہٰذا ان کے معاملات کو مزید تاخیر کے بغیر حتمی شکل دی جانی چاہیے۔ کمیٹی نے نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کی جانب سے PMDC کے منظور شدہ فیس ڈھانچے کے سرکلر پر عملدرآمد نہ کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اگرچہ مقررہ فیس کی حد 18 سے 25 لاکھ روپے سالانہ ہے، کئی ادارے اس سے زائد فیس وصول کر رہے ہیں۔ PMDC نے آگاہ کیا کہ 14کالجز کو خلاف ورزی پر شوکاز نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔
اراکین نے زور دیا کہ ایسے اداروں کی تفصیلات، نوٹسز کی تاریخوں اور کیے گئے اقدامات کے ساتھ، کمیٹی سے شیئر کی جائیں۔ وزیرِ صحت نے یقین دلایا کہ معاملہ زیرِ غور ہے اور اداروں کی فیس کے ڈھانچے کی تصدیق کے لیے ایک سروے کیا جا رہا ہے۔ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (MDCAT) پر گفتگو کے دوران اراکین نے ٹیسٹ کے نتائج کی دو سالہ مدت اور ریلیٹیو مارکنگ سسٹم (Relative Marking System) کی عدم موجودگی پر تشویش ظاہر کی۔ یہ مشاہدہ کیا گیا کہ یہ پالیسی اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے طلباء کو دوبارہ درخواست دینے سے روک رہی ہے۔ چیئرمین نے نوٹ کیا کہ ہزاروں طلباء نے 95 فیصد سے زائد نمبر حاصل کیے، تاہم نشستوں کی کمی کے باعث وہ محروم رہ گئے۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ پالیسی کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے تاکہ تمام امیدواروں کے لیے مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ وزیرِ صحت نے وضاحت کی کہ ایک مشترکہ نصاب سے 6 ہزار سے زائد معیاری سوالات تیار کیے گئے ہیں، جنہیں شفافیت کے لیے مختلف سیٹس میں تقسیم کیا گیا ہے، اور یقین دہانی کرائی کہ صوبوں اور نیشنل اکیڈمک بورڈ کے ساتھ مزید مشاورت کی جائے گی۔ دورانِ گفتگو اراکین نے طلباء کے تعلیمی مستقبل کے تحفظ پر زور دیا، خاص طور پر ان صورتوں میں جب کسی کالج کا اندراج منسوخ کیا جائے، اور تجویز دی کہ پی ایم ڈی سی کو شکایت کے بعد نہیں بلکہ پیشگی طور پر ریگولیٹری کردار ادا کرنا چاہیے۔
کمیٹی نے”پاکستان نرسنگ کونسل (ترمیمی) بل، 2024″ (جسے سید رفیع اللہ، رکنِ قومی اسمبلی نے پیش کیا) پر بھی غور کیا۔ کمیٹی نے وزارت کی جانب سے پہلے اٹھائے گئے مسائل پر تاخیر اور غیرمؤثر ردعمل پر تشویش کا اظہار کیا۔ یہ نوٹ کیا گیا کہ کمیٹی کی سابقہ ہدایات کے باوجود کوئی خاطر خواہ اصلاحی اقدامات نہیں کیے گئے۔ وزیرِ صحت نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ کونسل کی حکمرانی اور خودمختاری کو مضبوط بنانے کے لیے ایک نیا آرڈیننس نافذ کیا گیا ہے۔ وضاحت کی گئی کہ پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل آرڈیننس کا نفاذ اس سے قبل کی گئی کسی غیرقانونی کارروائی کو قانونی حیثیت نہیں دیتا۔ آرڈیننس کے اجرا سے پہلے کیے گئے تمام غیرقانونی اعمال بدستور قانون کی خلاف ورزی تصور کیے جائیں گے اور ان پر مناسب قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔معزز اراکین نے صوبائی نمائندگی میں برابری اور کسی بھی امتیازی اہلیت کے معیار کے خاتمے پر زور دیا۔ چیئرمین نے ہدایت دی کہ آرڈیننس کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے قانون کی وزارت سے مشاورت کے ساتھ ایک خصوصی اجلاس منعقد کیا جائے
۔ کمیٹی نے وزیرِ صحت کی کوششوں کو سراہا جنہوں نے اراکین اور بل کے محرک کو یقین دلایا کہ تمام تحفظات جلد دور کیے جائیں گے۔ مزید برآں، اراکین نے اس مسئلہ کو اجاگر کیا کہ ادویات پارلیمنٹرینز کے ناموں سے بغیر تصدیق تقسیم کی جا رہی ہیں۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ شفافیت، جوابدہی کے فروغ اور غلط استعمال کی روک تھام کے لیے ایک آن لائن ٹریکنگ نظام تیار کیا جائے۔ کمیٹی نے "فارمیسی (ترمیمی) بل، 2024” (جسے عبدالقادر پٹیل، رکنِ قومی اسمبلی نے پیش کیا) پر کسی بحث کے بغیر نمٹا دیا۔ اجلاس کے اختتام پر معزز چیئرمین نے صحت کے شعبے میں بہتری اور پاکستان میں ریگولیٹری نگرانی کے فروغ کے لیے کمیٹی کے عزم کا اعادہ کیا۔اجلاس میں اراکینِ قومی اسمبلی ڈاکٹر شازیہ صوبیہ اسلم سومرو، صبیحین غوری، زہرہ ودود فاطمی، فرح ناز اکبر، ڈاکٹر نکہت شکیل خان، ڈاکٹر درشن، عالیہ کامران، راجہ خرم شہزاد نواز، شائستہ خان اور سید رفیع اللہ نے شرکت کی۔ وزیرِ صحت، وزارتِ قومی صحت خدمات، ضوابط و ہم آہنگی اور اس کے ماتحت اداروں کے دیگر سینئر افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔








