ڈاکٹر نفیسہ شاہ کی زیرِ صدارت خصوصی کمیٹی برائے صنفی مرکزی دھارے میں شمولیت کا اجلاس، کمیشن کے قانونی ڈھانچے، مینڈیٹ، کارکردگی، انتظامی امور اور درپیش چیلنجز پر کمیٹی کو جامع بریفنگ
ڈاکٹر نفیسہ شاہ کی زیرِ صدارت خصوصی کمیٹی برائے صنفی مرکزی دھارے میں شمولیت کا اجلاس، کمیشن کے قانونی ڈھانچے، مینڈیٹ، کارکردگی، انتظامی امور اور درپیش چیلنجز پر کمیٹی کو جامع بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد۔23ستمبر (اے پی پی):خصوصی کمیٹی برائے صنفی مرکزی دھارے میں شمولیت کی چیئرپرسن ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں (این سی ایس ڈبلیو ) اور پنجاب کمیشن برائے وقارِ نسواں کے چیئرپرسن کی تقرری میں مسلسل تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔پارلیمنٹ ہاؤس میں ڈاکٹر نفیسہ شاہ کی زیرِ صدارت خصوصی کمیٹی برائے صنفی مرکزی دھارے میں شمولیت کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں کے قائم مقام چیئرپرسن نے کمیشن کے قانونی ڈھانچے، مینڈیٹ، کارکردگی، انتظامی امور اور درپیش چیلنجز پر کمیٹی کو جامع بریفنگ دی جبکہ صوبائی کمیشنز برائے وقارِ نسواں کے چیئرپرسنز نے بھی اپنے تجربات، کامیابیوں، ادارہ جاتی مشکلات اور مزید تعاون و رابطہ کاری کی ضروریات سے آگاہ کیا۔چیئرپرسن کمیٹی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں اور پنجاب کمیشن برائے وقارِ نسواں میں سربراہان کی طویل عرصے سے خالی آسامیاں ان اہم قانونی اداروں کی مؤثر کارکردگی، ادارہ جاتی اختیار اور تسلسل کو متاثر کرتی ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ قابلِ اطلاق قانونی طریقہ کار کے تحت چیئرپرسنز کی تقرریاں مزید تاخیر کے بغیر مکمل کی جائیں تاکہ کمیشنز اپنے مینڈیٹ پر مؤثر انداز میں عملدرآمد اور خواتین کے حقوق کے فروغ و تحفظ کے لئے مضبوط ادارہ جاتی قیادت فراہم کر سکیں۔کمیٹی نے قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں اور دیگر خواتین کمیشنز میں عملے کی شدید کمی، منظور شدہ آسامیوں کے خالی ہونے، بنیادی سہولیات کے فقدان، پنشن سے متعلق مراعات اور ملازمین کے لئے مناسب مراعات کی عدم دستیابی پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے قرار دیا کہ کمیشنز کو اپنے مینڈیٹ پر مؤثر انداز میں عملدرآمد کے لئے مناسب مالی، انسانی اور ادارہ جاتی وسائل کی فراہمی ضروری ہے۔ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں اور صوبائی کمیشنز کے چیئرپرسنز کی خواتین کے حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لئے مسلسل خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی وابستگی، حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا۔قائم مقام چیئرپرسن قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں نے کمیٹی کو بتایا کہ قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں ایکٹ 2012 کے تحت قائم قومی کمیشن خواتین کے حقوق کے فروغ و تحفظ اور صنفی مساوات کے فروغ کا ذمہ دار ہے۔
کمیشن کے فرائض میں خواتین سے متعلق قوانین اور پالیسیوں کا جائزہ لینا، ان پر عملدرآمد کی نگرانی، حکومت کو اصلاحات سے متعلق مشاورت فراہم کرنا، تحقیق اور آگاہی کے اقدامات کرنا، جبکہ صوبائی کمیشنز اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ کاری شامل ہے۔ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں کی کارکردگی کا جائزہ صرف مطالعات، سفارشات یا مشاورتی اجلاسوں کی تعداد کی بنیاد پر نہیں لیا جانا چاہئے بلکہ اس امر کو بھی مدنظر رکھا جائے کہ ان اقدامات کے خواتین کی زندگیوں پر عملی اور قابلِ پیمائش اثرات کیا ہیں۔ انہوں نے قانون سازی کے جائزے، پالیسیوں کی نگرانی، سفارشات پر عملدرآمد کے فالو اَپ اور صنفی حساس طرزِ حکمرانی کے لئے زیادہ فعال، شواہد پر مبنی اور نتائج پر مرکوز حکمتِ عملی اختیار کرنے پر زور دیا۔
کمیٹی نے قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں اور صوبائی کمیشنز کے درمیان مضبوط ادارہ جاتی روابط کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ کمیٹی نے باقاعدہ مشاورت، معلومات کے تبادلے اور مشترکہ اقدامات کے ذریعے ایسے بین الصوبائی اور مشترکہ مسائل سے نمٹنے کے لئے مربوط حکمتِ عملی اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔کمیٹی نے تحقیق، ڈیٹا جمع کرنے، عوامی آگاہی، شکایات کے ازالے اور رپورٹنگ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے جبکہ ادارہ جاتی کارکردگی اور نتائج جانچنے کے لئے قابلِ پیمائش اشاریے وضع کرنے کی بھی سفارش کی۔کمیٹی نے سفارش کی کہ قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں اپنی سفارشات پر عملدرآمد کی جامع نگرانی اور فالو اَپ کا نظام قائم کرے جس کے تحت کمیشن کی سفارشات، متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنز سے موصول ہونے والے جوابات اور عملدرآمد کی صورتحال کا باقاعدہ ریکارڈ مرتب کیا جائے۔
اس حوالے سے سالانہ عملدرآمد رپورٹ قومی اسمبلی/کمیٹی کو پیش کی جائے تاکہ مؤثر پارلیمانی نگرانی یقینی بنائی جا سکے۔کمیٹی نے یہ بھی سفارش کی کہ قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں، صوبائی کمیشنز برائے وقارِ نسواں کے ساتھ مل کر باقاعدہ مشاورت، معلومات کے تبادلے اور مشترکہ اقدامات پر مشتمل مربوط رابطہ کاری کا نظام قائم کرے تاکہ صنفی مرکزی دھارے میں شمولیت کے لئے ایک مربوط قومی فریم ورک تشکیل دیا جا سکے۔کمیٹی نے وزارتِ انسانی حقوق کو سفارش کی کہ قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں اور صوبائی کمیشنز کے ساتھ مل کر ان اداروں کی ادارہ جاتی، مالی اور انسانی وسائل کی استعدادِ کار کو بہتر بنایا جائے، مؤثر بین الصوبائی رابطہ کاری یقینی بنائی جائے اور کمیشنز کی سفارشات پر عملدرآمد کی نگرانی اور رپورٹنگ کے لئے جامع نظام وضع کیا جائے۔
کمیٹی نے مزید سفارش کی کہ قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں اور صوبائی کمیشنز خواتین کے حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق شکایات کے اندراج اور فالو اَپ کے لئے قابلِ رسائی، شفاف اور مقررہ مدت پر مبنی طریقہ کار وضع کریں، اپنے مینڈیٹ سے متعلق عوامی آگاہی میں اضافہ کریں اور اپنی مداخلتوں کی مؤثریت اور اثرات جانچنے کے لیے قابلِ پیمائش کارکردگی اشاریے اور باقاعدہ رپورٹنگ کا نظام متعارف کرائیں۔اجلاس میں کمیٹی کے گزشتہ اجلاس کی کارروائی کے منٹس کی بھی منظوری دی گئی۔اجلاس میں رکن قومی اسمبلی شائستہ پرویز، رکن قومی اسمبلی شاہدہ رحمانی، رکن قومی اسمبلی شاہدہ بیگم، سینیٹر سعدیہ عباسی، سینیٹر روبینہ قائم خانی اور سینیٹر خالدہ عطیب کے علاوہ سیکرٹری وزارتِ انسانی حقوق، قائم مقام چیئرپرسن قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں اور وزارت کے سینئر افسران نے شرکت کی۔







