وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ رجسٹرڈ میڈیکل پریکٹیشنر کا اپنے مریضوں کو ادویات تجویز یا فراہم کرنے کا اختیار اسے ادویات کی فروخت کے لیے قانونی لائسنس حاصل کرنے کی شرط سے مستثنیٰ نہیں کرتا،
ڈاکٹر ہونا ادویات فروخت کرنے کے لائسنس سے استثنا نہیں دیتا، وفاقی آئینی عدالت

مزید خبریں
اسلام آباد۔5اکتوبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ رجسٹرڈ میڈیکل پریکٹیشنر کا اپنے مریضوں کو ادویات تجویز یا فراہم کرنے کا اختیار اسے ادویات کی فروخت کے لیے قانونی لائسنس حاصل کرنے کی شرط سے مستثنیٰ نہیں کرتا، اگر وہ ادویات کا ذخیرہ کرکے ان کی فروخت یا میڈیکل سٹور کا کاروبار کر رہا ہو تو ڈرگ ایکٹ 1976 کے تحت لائسنس کا حصول لازمی ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے یہ فیصلہ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے ڈاکٹر محمد رضوان راجپوت اور دیگر کے خلاف دائر سول پٹیشن میں سنایا۔ چیف جسٹس امین الدین خان اور جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مقدمے کی سماعت کی۔عدالت نے اپنے تفصیلی تحریری فیصلہ میں قرار دیا کہ فارمیسی ایکٹ 1967 اور ڈرگ ایکٹ 1976 الگ الگ قانونی شعبوں کو منظم کرتے ہیں۔ فارمیسی ایکٹ کی دفعہ 31(4)(a) رجسٹرڈ میڈیکل پریکٹیشنر کو اپنے مریضوں کے لیے دوا تجویز کرنے یا فراہم کرنے کے حوالے سے تحفظ فراہم کرتی ہے، تاہم اس شق کو ڈرگ ایکٹ 1976 کے تحت ادویات کی فروخت کے لائسنس سے عمومی استثنا قرار نہیں دیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا کہ ڈرگ ایکٹ کی دفعہ 23(1)(c) کے تحت کوئی شخص لائسنس کے بغیر ادویات فروخت نہیں کرسکتا اور قانون میں ڈاکٹروں کے لیے اس پابندی سے کوئی عمومی استثنا موجود نہیں۔فیصلے میں کہا گیا کہ کسی ڈاکٹر کی جانب سے صرف اپنے مریضوں کو تجویز کردہ ادویات فراہم کرنے اور باقاعدہ میڈیکل سٹور یا ادویات کی فروخت کا کاروبار کرنے میں فرق موجود ہے، جس کا تعین شواہد کی بنیاد پر کیا جانا ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے ادویات کے ذخیرے کی مقدار و نوعیت، خرید و فراہمی کا ریکارڈ، فروخت کی تفصیلات، رسیدیں، نسخے اور دیگر متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ ڈرگ انسپکٹر کو قانون کے تحت معائنہ، ادویات کے نمونے حاصل کرنے اور مقررہ قانونی تقاضوں کے مطابق ادویات قبضے میں لینے کے اختیارات حاصل ہیں۔ عدالت کے مطابق مقدمے کے ریکارڈ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ متعلقہ ڈرگ انسپکٹر کو کارروائی کا اختیار حاصل نہیں تھا۔عدالت نے پشاور ہائی کورٹ کے ڈیرہ اسماعیل خان بینچ کے 5 جون 2023 کے فیصلے پر بھی غور کیا، جس کے ذریعے ڈاکٹرز کے خلاف جاری قانونی کارروائی میں مداخلت کی گئی تھی۔فیصلے میں کہا گیا کہ شوکاز نوٹس جاری کرنا حتمی سزا یا جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں بلکہ متعلقہ شخص کو اپنا موقف پیش کرنے اور صفائی کا موقع فراہم کرنے کے قانونی عمل کا حصہ ہے۔
غیر معمولی حالات یا واضح قانونی اختیار کے فقدان کے بغیر آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے اس مرحلے پر قانونی کارروائی روکنا مناسب نہیں۔وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ ڈرگ ایکٹ 1976 کے تحت مخصوص قانونی طریقہ کار اور متعلقہ ادارے موجود ہیں اس لیے ادویات کے معیار، ذخیرے، فروخت اور لائسنس سے متعلق فنی و حقائق پر مبنی معاملات پہلے متعلقہ قانونی فورمز پر طے ہونے چاہئیں۔عدالت نے واضح کیا کہ قانونی کارروائی بحال کرنے کا مطلب متعلقہ ڈاکٹروں کو قصوروار قرار دینا نہیں ہے۔
انہیں اپنے نسخے، خریداری کی رسیدیں، سٹاک رجسٹر اور دیگر متعلقہ ریکارڈ پیش کرنے کا پورا موقع حاصل ہوگا اور متعلقہ حکام قانون کے مطابق آزادانہ فیصلہ کریں گے۔وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ آئین کا آرٹیکل 18 کسی شخص کو پیشہ یا کاروبار اختیار کرنے کا حق دیتا ہے تاہم یہ حق قانون کے تحت عائد اہلیت اور لائسنس کی شرائط سے مشروط ہے، خصوصاً ایسے معاملات میں جن کا تعلق عوامی صحت کے تحفظ کے بارے میں ہو۔








