ڈس انفارمیشن کا مقابلہ بروقت، حقائق پر مبنی اور مربوط حکمت عملی سے کیا جائے، عظمی بخاری
ڈس انفارمیشن کا مقابلہ بروقت، حقائق پر مبنی اور مربوط حکمت عملی سے کیا جائے، عظمی بخاری

مزید خبریں
لاہور۔12ستمبر (اے پی پی):صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت عظمی بخاری نے کہا ہے کہ ڈس انفارمیشن اور منفی بیانیوں کا مقابلہ محض ردعمل کی بنیاد پر نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کے لیے بروقت، حقائق پر مبنی، مربوط اور فعال حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ نوجوان نسل کو گمراہ کن معلومات، نفرت انگیز مواد اور انتہا پسندانہ سوچ سے محفوظ رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے انفارمیشن اسٹیئرنگ/ریویو کمیٹی کے چوتھے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری اطلاعات پنجاب سید طاہر رضا ہمدانی اور متعلقہ محکموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں پنجاب میں نظرثانی شدہ قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد، اب تک کی پیش رفت اور آئندہ کے لائحہ عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری اطلاعات سید طاہر رضا ہمدانی نے گزشتہ اجلاس کے فیصلوں کی روشنی میں پیش رفت اور مختلف اقدامات پر بریفنگ دی۔ اجلاس کو ڈس انفارمیشن، نفرت انگیز مواد، منفی پروپیگنڈے اور ریاست مخالف بیانیے کے تدارک کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔
محکمہ جاتی رابطہ کاری، ذمہ دارانہ معلومات کی فراہمی اور گمراہ کن بیانیوں کے بروقت تدارک کے اقدامات کا جائزہ بھی لیا گیا۔ عظمی بخاری نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے مقاصد کے حصول کے لیے محکمہ اطلاعات و ثقافت نے موثر اور متحرک کردار ادا کیا ہے۔ معرکہ حق کے دوران پاکستان کی کامیابیوں اور قومی بیانیے کو موثر انداز میں اجاگر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گمراہ کن اور منفی مواد کے باعث نوجوان اور طلبہ خصوصی طور پر متاثر ہوسکتے ہیں، اس لیے ان میں میڈیا لٹریسی اور ذمہ دارانہ ڈیجیٹل رویوں کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے ہدایت کی کہ تعلیمی اداروں میں سکول کونسلنگ اور دیگر متعلقہ فورمز کو موثر طور پر شامل کیا جائے اور طلبہ کی آگاہی کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔ طلبہ کو سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال، جعلی و گمراہ کن معلومات کی شناخت اور حقائق کی جانچ کے حوالے سے آگاہی فراہم کی جائے۔انہوں نے کہا کہ طلبہ میں تنقیدی سوچ اور میڈیا لٹریسی کی صلاحیتیں پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ وہ مستند اور تصدیق شدہ معلومات اور جعلی و من گھڑت مواد میں فرق کرسکیں۔
تعلیمی ادارے سماجی ہم آہنگی، رواداری اور مثبت قومی بیانیے کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ عظمی بخاری نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ وہ باہمی رابطے اور مکمل ہم آہنگی کے ساتھ مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کریں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام متعلقہ ادارے ڈس انفارمیشن، نفرت انگیز تقاریر اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے تدارک کے لیے اپنا کردار موثر انداز میں ادا کریں گے۔







