نائن الیون کی 25ویں برسی، پاکستان کا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیوں اور کلیدی کردار پر زور

نائن الیون کی 25ویں برسی، پاکستان کا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیوں اور کلیدی کردار پر زور

اقوام متحدہ ۔12ستمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکا میں 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کی 25ویں برسی کے موقع پر خصوصی اجلاس منعقد کیا، جس میں پاکستان نے عالمی انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں بطور صف اول کی ریاست اپنے اہم کردار اور القاعدہ کی کمر توڑنے کے لیے دی گئی قربانیوں کو اجاگر کیا۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل سفیر عاصم افتخار احمد نے 15 رکنی سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ القاعدہ کے خلاف عالمی مہم کی نمایاں کامیابیاں پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں اور فعال تعاون کے ذریعے حاصل ہوئیں۔

اجلاس کے آغاز پر 9/11 حملوں میں جاں بحق ہونے والے ہزاروں افراد، جن میں 7 پاکستانی بھی شامل تھے،کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بھاری قربانیاں دی ہیں۔ صدی کے آغاز سے اب تک دہشت گردی کے واقعات میں 90ہزار پاکستانی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں سکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور بے گناہ شہری شامل ہیں، جبکہ ملک کو بڑے پیمانے پر معاشی نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی موجودہ پابندیوں کا نظام دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر سے نمٹنے کے لیے ناکافی ثابت ہو رہا ہے۔

عالمی سطح پر دائیں بازو کی انتہا پسند تحریکوں میں خطرناک اضافے پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے جو نسل پرستی، بیگانہ دشمنی، عدم برداشت اور مذہب و عقیدے کی بنیاد پر دہشت گرد حملوں کا سبب بن رہی ہیں۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ افریقہ، مشرق وسطیٰ اور افغانستان میں دہشت گردی کا خطرہ انتہائی تشویشناک ہے۔ گزشتہ تین برس کے دوران افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی، جسے نمایاں بیرونی حمایت حاصل ہے، کے نتیجے میں4,700 سے زائد پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کالعدم ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور اس کے مجید بریگیڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مناسب پابندیوں اور تادیبی اقدامات کے فقدان میں ایسے عناصر آزادانہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے دہشت گردی کے لیے جدید معلوماتی و مواصلاتی ٹیکنالوجی کے استعمال کو بھی سنگین خطرہ قرار دیا، جس میں پروپیگنڈا، گمراہ کن معلومات، نفرت انگیز تقاریر، آن لائن انتہا پسندی، بھرتی، ڈارک ویب کے ذریعے روابط اور ورچوئل اثاثوں و کرپٹو کرنسی کے ذریعے دہشت گردی کی مالی معاونت شامل ہے۔سفیر عاصم افتخار نے عالمی برادری پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کی جائے اور عالمی انسداد دہشت گردی حکمت عملی کے چاروں ستونوں پر متوازن انداز میں عملدرآمد کے ساتھ دہشت گردی کی بنیادی وجوہات پر بھی توجہ دی جائے۔انہوں نے کہا کہ غیر ملکی قبضے کی صورتحال میں ریاستی دہشت گردی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے اور سلامتی کونسل کو قابض طاقتوں کا احتساب یقینی بنانا چاہیے تاکہ وہ لوگوں کی حق خودارادیت کی جائز جدوجہد کو دبانے کے لیے بلا احتساب کارروائیاں نہ کر سکیں۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی ردعمل تیزی سے بدلتے خطرات سے ہم آہنگ، بلکہ ان سے آگے ہونا چاہیے۔ انہوں نے انسداد دہشت گردی کے عالمی نظام اور پابندیوں کے طریقہ کار میں موجود خامیوں کو دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانا سلامتی کونسل کی ذمہ داری ہے اور اس عالمی خطرے سے نمٹنے کے لیے مؤثر بین الاقوامی تعاون اور علاقائی ہم آہنگی کے ذریعے متحدہ اور اجتماعی محاذ قائم کرنا ہوگا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل اور انسداد دہشت گردی کمیٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نتالیہ گرمین نے 9/11 حملوں کے متاثرین اور ان کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کیا۔انہوں نے کہا کہ 2001 میں سلامتی کونسل کا ردعمل فوری اور متحد تھا اور قرارداد 1373 کے ذریعے دہشت گردی کی روک تھام، دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور انہیں محفوظ پناہ گاہیں نہ ملنے کو یقینی بنانے کے لیے اہم ذمہ داریاں عائد کی گئیں۔

ان کے مطابق کونسل اس کے بعد انسداد دہشت گردی سے متعلق 20 سے زائد مزید قراردادیں منظور کر چکی ہے۔نتالیہ گرمین نے کہا کہ دہشت گرد گروہ اپنی کارروائیوں کو غیر مرکزی بنا رہے ہیں اور مالی وسائل کے ذرائع متنوع کرتے ہوئے کمزور طرز حکمرانی، وسائل پر مسابقت اور مقامی شکایات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ دہشت گرد سمندری راستوں کو افراد، ہتھیاروں اور غیر قانونی اشیا کی نقل و حرکت کے لیے بھی استعمال کر رہے ہیں جبکہ غیر مرکزی سیلز، ڈھیلے ڈھالے نیٹ ورکس اور تنہا حملہ آوروں کا کردار بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے نئی ٹیکنالوجی کے استعمال، بچوں اور نوجوانوں کی بھرتی و استحصال اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے بڑھتے ہوئے پیچیدہ ذرائع پر بھی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد گروہ بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، اسمگلنگ اور قدرتی وسائل کے استحصال سمیت جرائم کے ذریعے بھی مالی وسائل حاصل کر رہے ہیں۔نتالیہ گرمین نے کہا کہ 9/11 کے متاثرین کی یاد میں سلامتی کونسل اور رکن ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف روک تھام، پیشگی تیاری، بین الاقوامی تعاون اور یکجہتی کے عزم کو مزید مضبوط کریں۔