ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفیٰ شاہ کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی ہائوس اینڈ لائبریری کمیٹی کا اجلاس

اسلام آباد۔8اکتوبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی ہائوس اینڈ لائبریری کمیٹی کا اجلاس بدھ کو پارلیمنٹ ہائوس میں ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفیٰ شاہ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس کے ایجنڈے میں 2 ستمبر 2025ء کو ہونے والے اجلاس کی کارروائی کی توثیق اور سابقہ سفارشات پر عملدرآمد کی تفصیلی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے 104 اضافی فیملی سوئیٹس اور سرونٹ کوارٹرز کی تعمیر، ٹک …

اسلام آباد۔8اکتوبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی ہائوس اینڈ لائبریری کمیٹی کا اجلاس بدھ کو پارلیمنٹ ہائوس میں ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفیٰ شاہ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس کے ایجنڈے میں 2 ستمبر 2025ء کو ہونے والے اجلاس کی کارروائی کی توثیق اور سابقہ سفارشات پر عملدرآمد کی تفصیلی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے 104 اضافی فیملی سوئیٹس اور سرونٹ کوارٹرز کی تعمیر، ٹک شاپس، بیوٹی پارلر، حجام، درزی، لانڈری، کیبل ٹی وی آفس اور کیفے ٹیریا کی دوبارہ نیلامی سے متعلق امور کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔ڈپٹی سپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ نے کہا کہ تقریباً 18 سال سے التواء کا شکار نئے پارلیمنٹ لاجز کی تعمیر سپیکر قومی اسمبلی کی معاونت سے تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کمیٹی 21 اکتوبر 2025ء کو جاری تعمیراتی کاموں بشمول پارکنگ شیڈز اور مرکزی لابی کی ماربلنگ کا موقع پر جائزہ لے گی۔چیئرمین سی ڈی اے نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ماڈل کمروں کی تیاری جاری ہے جبکہ مرکزی لابی اور عوامی مقامات پر معیاری ماربل لگایا جا رہا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ نئے پارکنگ شیڈز کا ڈیزائن اور نمونہ منظور شدہ ماسٹر پلان کے مطابق حتمی شکل دے دی گئی ہے تاکہ پرانے اور نئے بلاکس کے درمیان ہم آہنگی پیدا ہو سکے۔ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی نے پارلیمنٹ لاجز میں پارکنگ کے مسائل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اکثر ٹیکسیاں بھی پارکنگ ایریا میں جگہ گھیر لیتی ہیں

۔ چیئرمین سی ڈی اے نے بتایا کہ نئے ڈیزائن میں 615 پارکنگ سپیسز جبکہ پرانے سرونٹ کوارٹرز میں مزید 200 پارکنگ مقامات شامل کیے جا رہے ہیں تاکہ مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل ہو سکے۔ڈپٹی سپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ نے اراکین پارلیمنٹ کے لیے گاڑیوں کے سٹیکرز کے اجراء کی ہدایت دیتے ہوئے سی ڈی اے، پولیس اور اسلام آباد ٹریفک پولیس کے درمیان بہتر رابطے اور نظم و نسق پر زور دیا تاکہ پارکنگ اور آمد و رفت کے مسائل حل کیے جا سکیں۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ آئندہ اجلاس میں آئی جی پولیس اور سی ٹی او کو مدعو کیا جائے تاکہ ٹریفک اور سکیورٹی کے معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی جا سکے۔

چیئرمین سی ڈی اے نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی خصوصی ہدایت پر پرانے لاجز کی تزئین و آرائش کے لیے اضافی فنڈز کی سمری وزارت داخلہ میں زیر غور ہے۔ ڈپٹی سپیکر نے ہدایت دی کہ 40 تا 45 پرانے لاجز کی بحالی کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے اور اس ضمن میں تفصیلی فہرست کمیٹی کو پیش کی جائے۔ کمیٹی نے پارلیمنٹ لاجز میں جم کی سہولیات سے متعلق امور پر بھی غور کیا۔ اراکین نے نشاندہی کی کہ جم کے بیشتر آلات خراب ہیں اور نئے خریدنے کے بجائے موجودہ مشینوں کی مرمت کی جائے۔ چیئرمین سی ڈی اے نے بتایا کہ مستقل عملہ تعینات کیا جا رہا ہے اور تمام جم آلات جلد فعال کر دیئے جائیں گے۔

اجلاس میں سرونٹ کوارٹرز میں لفٹس، سی سی ٹی وی کیمروں اور بجلی کے میٹروں کے غیر فعال ہونے کے مسائل پر بھی غور کیا گیا۔ سی ڈی اے نے بتایا کہ دو نئی لفٹس نصب کی جا رہی ہیں جبکہ موجودہ لفٹس کی مرمت کا کام جاری ہے۔ مزید کہا گیا کہ تین ماہ کے اندر تمام سی سی ٹی وی نظام فعال کر دیئے جائیں گے اور واپڈا سے میٹر ٹرانسفرز اور ڈیمانڈ نوٹسز کے معاملات تیزی سے نمٹائے جائیں گے۔ ڈپٹی سپیکر نے ہدایت دی کہ تمام ترقیاتی کام چار ماہ کے اندر مکمل کیے جائیں، باقاعدہ نگرانی کی جائے اور ہر اجلاس میں پیش رفت رپورٹ کمیٹی کو پیش کی جائے۔کمیٹی نے زور دیا کہ پارلیمنٹ لاجز میں دکانوں کی دوبارہ نیلامی کے دوران مارکیٹ معیار کی برانڈڈ آئوٹ لیٹس کو ترجیح دی جائے تاکہ اراکین کو معیاری خدمات فراہم کی جا سکیں۔

سی ڈی اے نے یقین دہانی کرائی کہ اس ضمن میں ٹرمز آف ریفرنس (ٹی او آرز) 21 اکتوبر 2025ء تک مکمل کر لیے جائیں گے۔رکن قومی اسمبلی اعجاز حسین جاکھرانی کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی نے نئے لاجز منصوبے کے تعمیراتی کاموں کے حالیہ دورے سے متعلق اپنی رپورٹ پیش کی اور جاری پیش رفت و درپیش مسائل سے کمیٹی کو آگاہ کیا۔اجلاس کے اختتام پر کمیٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اراکین پارلیمنٹ اور عملے کے لیے بہتر رہائشی و دفتری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا اور تمام منصوبے شفافیت کے ساتھ مقررہ مدت میں مکمل کیے جائیں گے۔ اجلاس میں اراکینِ قومی اسمبلی نبیل احمد گبول، اعجاز حسین جاکھرانی، محمد معین عامر پیرزادہ، چیئرمین سی ڈی اے اور اسلام آباد پولیس کے حکام نے بھی شرکت کی۔