وفاقی محتسب نوید کامران بلوچ نے کہا ہے کہ عوامی خدمات کی بہتری، سرکاری ملازمین کی استعدادِ کار میں اضافے اور فیصلوں پر بروقت عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی اصلاحات کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت پر مبنی اصلاحات سے بھرپور استفادہ کیا جا رہا ہے، وفاقی محتسب نوید کامران بلوچ

مزید خبریں
اسلام آباد۔11جولائی (اے پی پی):وفاقی محتسب نوید کامران بلوچ نے کہا ہے کہ وفاقی محتسب کا ادارہ عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے، سرکاری ملازمین کی آگاہی اور استعداد کار میں اضافے اور محتسب کے فیصلوں پر مقررہ 60 دن کے اندر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی اصلاحات سے بھرپور استفادہ کر رہا ہے۔
پی ٹی وی نیوز کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی محتسب نے ادارے کی کارکردگی پر روشنی ڈالی اور حکومت کی قیادت کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے ٹیکنالوجی اور اے آئی پر مبنی نظام متعارف کرا کے تیز، شفاف اور آسان انصاف کی فراہمی کو ممکن بنایا۔نوید کامران بلوچ نے کہا کہ ادارے کی توجہ بالخصوص معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات کو انصاف فراہم کرنے پر مرکوز ہے، جبکہ تقریباً 90 فیصد شکایت کنندگان سرکاری محکموں اور عوامی دفاتر سے متعلق مسائل کے حل کے لیے وفاقی محتسب سے رجوع کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے انصاف کی خدمات عوام کی دہلیز تک پہنچ رہی ہیں جبکہ محتسب کے فیصلوں پر 60 دن کے اندر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے اور اس مدت کو مزید کم کرنے کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انصاف تک رسائی کے لیے عوامی آگاہی انتہائی ضروری ہے۔ وفاقی محتسب شکایات کے ازالے کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہا ہے، جن میں نادرا، ہوائی اڈوں، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ، بجلی کے شعبے اور دیگر عوامی خدمات انجام دینے والے اداروں میں مانیٹرنگ سیلز کے قیام اور فوکل پرسنز کی تعیناتی شامل ہے تاکہ شہریوں کی شکایات کا بروقت ازالہ ممکن بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لیے بھی وفاقی محتسب مختلف اداروں کے ساتھ مربوط انداز میں کام کر رہا ہے، جبکہ سیکرٹری خارجہ متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری میں معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد عوامی خدمات کو زیادہ مؤثر، شفاف اور عوام دوست بنانا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے عوام سے براہِ راست رابطے میں رہنے والے سرکاری ملازمین کی استعداد کار بڑھانے، تربیت اور خصوصی کورسز کے انعقاد کی ضرورت پر زور دیا تاکہ عوام کو بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی محتسب شہریوں کو انصاف فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اداروں میں احتساب، شفافیت اور اعتماد کو بھی فروغ دے رہا ہے، جبکہ عوامی آراء سے ادارے پر عوام کے اعتماد کی عکاسی ہوتی ہے۔شکایات درج کرانے کے طریقہ کار کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ شہری صرف تحریری درخواست ہی نہیں بلکہ ٹیلیفون اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے بھی وفاقی محتسب سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے خصوصی ٹیمیں اور محققین فوری رہنمائی اور بروقت جواب دینے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال وفاقی محتسب کو 2 لاکھ 56 ہزار سے زائد شکایات موصول ہوئیں، جبکہ وہ ذاتی طور پر روزانہ 920 سے 1,000 شکایات کا جائزہ لیتے ہیں۔نوید کامران بلوچ نے کہا کہ شکایات کے تجزیے، کارکردگی میں بہتری اور جلد از جلد فیصلوں کے لیے اے آئی پر مبنی فارنزک ڈیجیٹل نظام استعمال کیا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ زیادہ تر شکایات ایسے سرکاری اداروں سے متعلق ہوتی ہیں جو براہِ راست عوام کو خدمات فراہم کرتے ہیں۔ وفاقی محتسب اس وقت 12 سے 14 اہم عوامی خدمت کے اداروں کے ساتھ مل کر اصلاحات متعارف کرانے اور عوامی اطمینان میں اضافے کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے۔اپنے اختتامی کلمات میں وفاقی محتسب نے عوامی آگاہی، شہریوں کے وقار کے احترام اور ہمدردانہ طرزِ عمل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی محتسب انصاف کو ہر شہری کے لیے مزید قابلِ رسائی بنانے اور عوام کو منصفانہ اور باوقار خدمات فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی محتسب عوامی شکایات کے ازالے، طرزِ حکمرانی میں بہتری اور سرکاری اداروں میں شفافیت، جوابدہی اور کارکردگی کے فروغ کے ذریعے انتظامی احتساب کا ایک مضبوط ستون بن چکا ہے۔








