اکستان حج مشن مدینہ منورہ نے رواں سال حج آپریشن کے دوران ایک نیا تاریخی ریکارڈ قائم کرتے ہوئے سرکاری سکیم کے تحت آنے والے 100 فیصد پاکستانی حجاج کرام کو باضابطہ پرمٹس کے ذریعے ریاض الجنہ کی زیارت کا عمل کامیابی سے مکمل کرا دیا ہے
ڈیجیٹل سسٹم کا بہترین استعمال، مدینہ حج آپریشن میں نیا سنگِ میل، ایک لاکھ 19 ہزار سے زائد پاکستانی حجاج کی پرمٹس کے ذریعے ریاض الجنہ کی زیارت مکمل

مزید خبریں
مدینہ منورہ۔22جون (اے پی پی):پاکستان حج مشن مدینہ منورہ نے رواں سال حج آپریشن کے دوران ایک نیا تاریخی ریکارڈ قائم کرتے ہوئے سرکاری سکیم کے تحت آنے والے 100 فیصد پاکستانی حجاج کرام کو باضابطہ پرمٹس کے ذریعے ریاض الجنہ کی زیارت کا عمل کامیابی سے مکمل کرا دیا ہے، اس بے مثال آپریشن کے دوران حج سے قبل 46ہزار جبکہ حج کے بعد 73 ہزار سے زائد حجاج کو پرمٹس جاری کئے گئے جس کے بعد مجموعی طور پر 1,19,000 سے زائد پاکستانی حجاج کرام کو اس مقدس مقام پر نماز اور عبادات کی سعادت حاصل ہوئی۔ڈائریکٹر حج مدینہ منورہ زاہد سہیل کے مطابق تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ تمام سرکاری حجاج کرام کو روضہ رسول ﷺ پر حاضری اور ریاض الجنہ میں نوافل کی ادائیگی کی سعادت فراہم کی گئی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ سعودی قوانین اور اوقات کار کی سخت پابندی کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے، حج مشن نے پری حج اور پوسٹ حج دونوں مراحل میں پرمٹس کے کامیاب اجراکے لئے باضابطہ ‘نسک مسار’ پلیٹ فارم کا استعمال یقینی بنایا۔حج مشن کے اعداد و شمار کے مطابق ان پرمٹس کے حصول کے لئے ایک جامع ڈیجیٹل طریقہ کار اپنایا گیا۔ جہاں 12,000 پرمٹس سمارٹ فون ایپلی کیشنز کے ذریعے،1,10,292 ‘ای-نسک مسار’ سسٹم کے ذریعے پرمٹس کامیابی سے نکالے۔ یہ فعال قدم اس لئے اٹھایا گیا تاکہ معمر، کم پڑھے لکھے اور سمارٹ فون نہ رکھنے والے حجاج کرام کو کسی بھی قسم کی پریشانی یا دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ریاض الجنہ میں حجاج کے وفود کو مربوط انداز میں لے جانے کے لئے قائم خصوصی ٹیم کے انچارج رائے آصف اقبال کھرل نے بتایا کہ حجاج کی اتنی بڑی تعداد کو منظم رکھنا ایک بڑا چیلنج تھا لیکن ان کی ٹیم 24 گھنٹے الرٹ رہی۔
انہوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی ٹیم روزانہ باقاعدگی کے ساتھ صبح 11 بجے اور رات 2 بجے سینکڑوں حجاج کرام کے بڑے دستوں کو قطاروں کی صورت میں، مکمل نظم و ضبط اور پرمٹس کی سخت سکریننگ کے ساتھ ریاض الجنہ روانہ کرتی رہی جس سے سعودی حکام کو بھی رش کے کنٹرول اور نظم و نسق برقرار رکھنے میں بڑی مدد ملی۔انہوں نے بتایا کہ حجاج کی سہولت اور خشوع و خضوع کے ساتھ عبادات کی ادائیگی کے لئے مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین حجاج کے لئے بھی نظام الاوقات کو انتہائی سہل اور مربوط بنایا گیا۔ خواتین حجاج کے لئے پرسکون ماحول میں زیارت کو یقینی بنانے کے لئے خصوصی اوقات مختص کئے گئے جن میں روزانہ مغرب کے بعد، رات 12 بجے اور صبح فجر کی نماز کے فوراً بعد کے اوقات شامل ہیں۔ اس مخصوص شیڈولنگ کی بدولت خواتین حجاج کو مکمل ذہنی سکون اور روحانی توجہ کے ساتھ اپنی عبادات سر انجام دینے کا موقع ملا۔








