ڈیجیٹل شناختی کارڈ کو فزیکل کارڈ کے برابر قانونی حیثیت حاصل ہے، نادرا کی تمام اداروں کو عملدرآمد کی ہدایت

نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا)نے اعلان کیا ہے کہ اس کی پاک آئی ڈی موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے دستیاب ڈیجیٹل کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (ڈیجیٹل سی این آئی سی) کو فزیکل شناختی کارڈ کے برابر مکمل قانونی حیثیت حاصل ہے۔

اسلام آباد۔13مارچ (اے پی پی):نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا)نے اعلان کیا ہے کہ اس کی پاک آئی ڈی موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے دستیاب ڈیجیٹل کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (ڈیجیٹل سی این آئی سی) کو فزیکل شناختی کارڈ کے برابر مکمل قانونی حیثیت حاصل ہے۔ نادرا کی جانب سے جمعہ کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بعض دفاتر اور سروس فراہم کرنے والے ادارے اب بھی ڈیجیٹل شناختی دستاویزات کو قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں اور شہریوں سے فزیکل کارڈ یا اس کی فوٹو کاپی طلب کر رہے ہیں جو کہ موجودہ قانونی فریم ورک کے خلاف ہے۔بیان کے مطابق نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی آرڈیننس 2000 کے تحت نادرا کو قومی شہری ڈیٹا بیس برقرار رکھنے اور شناختی اسناد کو فزیکل اور ڈیجیٹل دونوں صورتوں میں جاری کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس قانونی اختیار کو حال ہی میں نافذ کی گئی نادرا ڈیجیٹل آئیڈینٹیٹی ریگولیشنز 2025 کے ذریعے مزید مضبوط بنایا گیا ہے جس کے تحت ڈیجیٹل شناختی اسناد کو مکمل طور پر قانونی طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ریگولیشنز کے مطابق ریگولیشن 9 بعنوان ’’ڈیجیٹل شناختی اسناد کی قانونی حیثیت‘‘ واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ نادرا کی جانب سے جاری یا منظور کردہ کوئی بھی ڈیجیٹل شناختی دستاویز فزیکل دستاویز کے برابر قانونی حیثیت، افادیت اور شہادتی قدر رکھتی ہے۔اسی طرح ریگولیشن 10 بعنوان ’’ڈیجیٹل شناختی اسناد کی قبولیت‘‘ کے تحت تمام سرکاری اداروں، ریگولیٹڈ اداروں اور وہ تنظیمیں جو شناخت کے ثبوت کا تقاضا کرتی ہیں، ان پر لازم ہے کہ وہ نادرا کی جانب سے جاری کردہ ڈیجیٹل شناختی اسناد کو بلا استثنیٰ قبول کریں۔نادرا کے مطابق ڈیجیٹل شناختی نظام میں ڈیجیٹل سی این آئی سی، ڈی میٹریلائزڈ سی این آئی سی، نائیکوپ اور پی او سی شامل ہیں جو پاک آئی ڈی (نادرا ڈیجیٹل آئیڈینٹیٹی پلیٹ فارم) کے ذریعے دستیاب ہیں۔

اتھارٹی نے کہا کہ ڈیجیٹل شناختی اسناد کے استعمال سے شناختی کارڈ کی فوٹو کاپیوں کی گردش میں نمایاں کمی آئے گی جس سے شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنانے اور شناختی چوری یا غلط استعمال کے خطرات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔نادرا نے تمام سرکاری محکموں، عوامی اداروں، مالیاتی اداروں، ٹیلی کام کمپنیوں اور نجی سروس فراہم کنندگان پر زور دیا ہے کہ وہ نئی ریگولیشنز کے مطابق اپنے طریقہ کار کو ہم آہنگ کریں اور اپنے فیلڈ دفاتر کو واضح ہدایات جاری کریں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر کسی شہری کو ڈیجیٹل سی این آئی سی قبول نہ کئے جانے کا سامنا ہو تو وہ نادرا کے سرکاری ذرائع کے ذریعے شکایت درج کرا سکتا ہے تاکہ اس معاملے پر فوری اصلاحی کارروائی کی جا سکے۔ نادرا نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ محفوظ اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی شناختی نظام کے فروغ کے ذریعے پاکستان میں عوامی خدمات کو جدید بنانے اور ڈیٹا کے تحفظ کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

 

مزید خبریں