ڈیوٹیزمیں کمی ،ایکسپورٹ ریبیٹ ،ڈرا بیک سکیموں کو بحال اور موثر بنایا جائے، پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن
ڈیوٹیزمیں کمی ،ایکسپورٹ ریبیٹ ،ڈرا بیک سکیموں کو بحال اور موثر بنایا جائے، پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن

مزید خبریں
اسلام آباد۔5اپریل (اے پی پی):پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے ہاتھ سے بنے قالینوں کی سرپرستی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان میں ہاتھ سے تیار کئے جانے والے قالینوں کی صنعت شدید چیلنجز سے دوچار ہے،مہنگے خام مال ، ہنرمندوں کی کمی اور عالمی منڈی میں سخت مقابلے نے روایتی صنعت کو مشکلات میں گھیر رکھا ہے اس لئے حکومت ہنرمندوں کی قلت دور کرنے کیلئے پر کشش پیکج کی فراہمی میں معاونت اور برآمدات کے فروغ کے لیے فوری اور جامع اقدامات کئے جائیں ۔چیئرمین میاں عتیق الرحمن، پیٹرن انچیف عبد اللطیف ملک، وائس چیئرمین ریاض احمد، چیئر پرسن کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ اعجاز الرحمن ، سینئر ممبران عثمان اشرف ، میجر (ر) اختر نذیر ، سعید خان نے اتوار کو جاری اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ مختلف وجوہات کی وجہ سے پاکستان کی ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت کو عالمی منڈی میں حریف ممالک سے سخت مسابقت کا سامنا ہے ۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہنر مندوں کو اس صنعت سے جوڑے رکھنے اور قلت کے خاتمے کے لئے پر کشش پیکج میں صنعت کی معاونت کی جائے ،ہنرمند خاندانوں کے لیے صحت کارڈ کی سہولت دی جائے ،گھریلو سطح پر کام کرنے والی خواتین ہنرمندوں کے لیے بھی خصوصی سپورٹ پروگرام جاری کیا جائے اور ورکرز کے لئے سوشل سکیورٹی اور پنشن سکیموں کا اجراء کیا جائے ،اگر ہنرمندوں کو معاشی تحفظ فراہم نہ کیا گیا تو نئی نسل اس پیشے کو اختیار نہیں کرے گی جس سے یہ صدیوں پرانی صنعت مزید زوال کا شکار ہو سکتی ہے۔
ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے مطالبہ کیا کہ قالینوں کی برآمد پر عائد ٹیکسوں اور ڈیوٹیزمیں کمی کی جائے،ایکسپورٹ ریبیٹ اور ڈرا بیک سکیموں کو بحال اور موثر بنایا جائے،کسٹمز کلیئرنس کے عمل کو تیز اور ڈیجیٹلائز کیا جائے،بین الاقوامی تجارتی نمائشوں میں شرکت کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے،بیرونِ ملک پاکستانی سفارتخانوں کو تجارتی فروغ میں فعال کردار دیا جائے،ان اقدامات سے نہ صرف برآمدات میں اضافہ ممکن ہوگا بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی بہتری آئے گی۔ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے مزید کہا کہ رواں سال پاکستان میں منعقد ہونے والی عالمی نمائش کے لئے مالی معاونت کے حوالے سے فوری پیشرفت کی جائے تاکہ تیاریوں کا آغاز کیا جا سکے۔








