کابینہ کمیٹی کی ڈیری و بیوریج سیکٹر میں بڑی ریگولیٹری اصلاحات کی تجویز، 58 ارب روپے سے زائد معاشی بچت متوقع

وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ کی زیرصدارت کابینہ کمیٹی برائے ریگولیٹری اصلاحات (سی سی او آر آر) کا اجلاس ہوا جس میں ڈیری اور بیوریج سیکٹر میں درپیش ریگولیٹری مسائل اور مجوزہ اصلاحات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اسلام آباد۔10جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ کی زیرصدارت کابینہ کمیٹی برائے ریگولیٹری اصلاحات (سی سی او آر آر) کا اجلاس ہوا جس میں ڈیری اور بیوریج سیکٹر میں درپیش ریگولیٹری مسائل اور مجوزہ اصلاحات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔سرمایہ کاری بورڈ سے جاری پریس ریلیز کے مطابق اجلاس میں وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان، بورڈ آف انویسٹمنٹ کے سینئر افسران، متعلقہ وفاقی و صوبائی محکموں کے نمائندگان اور نجی شعبے کے اہم اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ ڈیری اور بیوریج سیکٹر میں اصلاحات کا جائزہ لیا گیا، یہ شعبہ قومی جی ڈی پی میں تقریباً 14.04 فیصد حصہ ڈالتا ہے اور تقریباً 80 لاکھ دیہی خاندانوں کا ذریعہ معاش ہے۔

پاکستان دنیا کا چوتھا بڑا دودھ پیدا کرنے والا ملک ہے۔ اصلاحاتی ٹیم نے تفصیلی ریگولیٹری جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس شعبے میں مجموعی طور پر 40 ریگولیٹری تقاضے 25 محکموں کے تحت آتے ہیں، جن میں 17 وفاقی تقاضے (9 محکمے)، 17 صوبائی تقاضے (10 محکمے) اور 4 مقامی حکومتوں کے تقاضے شامل ہیں۔خصوصاً سندھ میں نمایاں ساختی مسائل کی نشاندہی کی گئی، جہاں فوڈ پروسیسنگ یونٹ کے قیام کے لیے 235 دستاویزات درکار ہیں، جن میں 57 فیصد دہراؤ پایا جاتا ہے جبکہ مکمل عمل میں تقریباً 2040 دن لگتے ہیں۔ اصلاحاتی ٹیم نے 5 ضوابط کے خاتمے، 9 کی سادہ کاری، 18 کی ڈیجیٹائزیشن اور بہتری جبکہ 8 کو برقرار رکھنے کی تجویز دی۔ان اصلاحات کے نتیجے میں دستاویزات کی تعداد 235 سے کم ہو کر 83 رہ جائے گی، 58.4 ارب روپے کی معاشی بچت ممکن ہوگی اور پراسیسنگ کا دورانیہ کم ہو کر 634 دن رہ جائے گا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے کہا کہ ان اصلاحات کا بنیادی مقصد پاکستان میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور کاروبار میں آسانی پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ اگرچہ یہ معاملات زیادہ تر صوبائی دائرہ اختیار میں آتے ہیں تاہم تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر رکاوٹیں دور کرنا ہوں گی۔ انہوں نے صوبوں کی جانب سے مزاحمت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومتوں اور نجی شعبے کی زیادہ مؤثر نمائندگی اور شمولیت ضروری ہے۔وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان نے کہا کہ کثیر اور پیچیدہ ضوابط غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کو کاروباری سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک دوسرے سے مقابلہ کرنا چاہیے تاہم موجودہ صورتحال اس کے برعکس ہے جہاں ضوابط میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے اس حوالے سے سوچ میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا۔پاکستان بزنس کونسل کی چیئرپرسن ڈاکٹر زیلاف منیر نے کہا کہ دنیا کا چوتھا بڑا ڈیری پیدا کرنے والا ملک ہونے کے باوجود پاکستان کی یورپی یونین جیسی بڑی مارکیٹس میں برآمدات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ایف پی سی سی آئی کراچی کے نمائندگان نے بھی ڈیری سیکٹر کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اصلاحات کی ضرورت کی تائید کی۔ ایف پی سی سی آئی کے ڈیری ماہر ڈاکٹر شہزاد امین نے کہا کہ بے شمار ضوابط کے باوجود مصنوعات کا معیار تسلی بخش نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں سالانہ تقریباً 72 ارب لیٹر دودھ پیدا ہوتا ہے، مگر اس کے باوجود 5 سال سے کم عمر کے 40 فیصد بچے نشوونما کی کمی کا شکار ہیں۔ انہوں نے محفوظ دودھ کے قانون کی عدم موجودگی کی نشاندہی کرتے ہوئے معیار پر مبنی اصلاحات کی حمایت کی۔

اجلاس میں کئی ایسے ریگولیٹری امور بھی زیرِ بحث آئے جن پر متعلقہ محکموں کے ساتھ مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا، جن میں سندھ فوڈ اتھارٹی کے لائسنس اور پروڈکٹ رجسٹریشن کے تقاضے شامل ہیں۔ اصلاحاتی ٹیم نے بعض ضوابط کے خاتمے یا سالانہ تجدید کی مدت کو 3 یا 5 سال تک بڑھانے کی تجاویز پیش کیں۔ایڈیشنل سیکرٹری بورڈ آف انویسٹمنٹ ذوالفقار علی نے آگاہ کیا کہ فوڈ اسٹینڈرڈز کی ہم آہنگی کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) میں اٹھایا جا چکا ہے، جہاں صوبوں کو پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے قومی معیارات اپنانے کی ہدایت دی گئی تاہم اس پر عملدرآمد تاحال نہیں ہو سکا۔ وفاقی وزیر اور معاونِ خصوصی نے سی سی آئی کے فیصلے پر فوری عملدرآمد پر زور دیا۔بوائلر اور ویسل پرمٹ سمیت دیگر ضوابط پر بھی گفتگو ہوئی، جہاں ریونیو کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

قیادت نے واضح کیا کہ ضوابط کا بنیادی مقصد سہولت فراہم کرنا ہونا چاہیے جبکہ آمدن میں اضافہ کاروباری سرگرمیوں کے فروغ سے ممکن ہے۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے متعلق اصلاحات، جیسے کمپلیشن سرٹیفکیٹ اور بلڈنگ پلان منظوری بھی زیرِ غور آئیں۔ اصلاحاتی ٹیم نے انہیں سندھ بزنس ون اسٹاپ شاپ کے ساتھ مربوط کرنے، مقررہ مدت (مثلاً دو ہفتے) میں منظوری اور درخواستوں کی مؤثر ٹریکنگ کی تجویز دی۔ ہارون اختر خان نے حفاظتی اقدامات اور سرٹیفیکیشن میں جوابدہی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔دیگر امور میں ماحولیاتی منظوری، لیبر و ایچ آر رجسٹریشن، گودام و ویئرہاؤس رجسٹریشن اور سپلائی چین سے متعلق ضوابط شامل تھے، جن میں ڈیجیٹائزیشن، سالانہ تجدید کے خاتمے اور اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی تجاویز پیش کی گئیں۔

اجلاس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ڈیجیٹائزیشن، وفاقی و صوبائی سطح پر ہم آہنگی، اور ڈیٹا شیئرنگ کے نظام کو بہتر بنانا ناگزیر ہے۔ وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ اور معاون خصوصی ہارون اختر خان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سرمایہ کاری میں اضافہ اور کاروباری سہولت کو فروغ دینا تمام اصلاحات کا بنیادی مقصد ہونا چاہیے۔بورڈ آف انویسٹمنٹ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ پاکستان میں کاروباری ماحول کو بہتر بنانے اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ریگولیٹری اصلاحات کے عمل کو جاری رکھے گا۔