اسلام آباد۔19فروری (اے پی پی):کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے وزیراعظم رمضان ریلیف پیکیج (پی ایم آر آر پی) 2026 کے لیے 19 ارب روپے کے اجراء کی منظوری دیدی ہے۔ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس جمعرات کو وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا،وزیرخزانہ نے ویڈیو لنک کے ذریعہ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں …
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وزیراعظم رمضان ریلیف پیکیج کے لیے 19 ارب روپے کے اجراء کی منظوری دے دی
اسلام آباد۔19فروری (اے پی پی):کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے وزیراعظم رمضان ریلیف پیکیج (پی ایم آر آر پی) 2026 کے لیے 19 ارب روپے کے اجراء کی منظوری دیدی ہے۔ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس جمعرات کو وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا،وزیرخزانہ نے ویڈیو لنک کے ذریعہ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر تخفیف غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کے علاوہ متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اداروں کے وفاقی سیکریٹریز اور سینئر حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں وزارت تخفیف غربت و سماجی تحفظ کی جانب سے وزیراعظم رمضان ریلیف پیکیج (پی ایم آر آر پی) 2026 کے لیے 25 ارب روپے کے فنڈز کی منظوری سے متعلق سمری کاجائزہ لیاگیا۔ فنانس ڈویژن نے کمیٹی کو بتایاکہ موجودہ مالی سال کے لیے رمضان پیکیج کی مد میں پہلے ہی 19 ارب روپے بجٹ میں مختص کیے جا چکے ہیں اور ضرورت کے مطابق باقی ماندہ فنڈز جاری کیے جائیں گے ۔ ای سی سی نے فوری طور پر 19 ارب روپے کے اجراء کی منظوری دے دی تاکہ رقوم کی بروقت تقسیم کا آغاز ممکن بنایا جا سکے جبکہ اس بات سے اتفاق کیا گیا کہ اضافی فنڈز کا جائزہ ضرورت اور دستیاب مالی گنجائش کے مطابق لیا جائے گا۔
کمیٹی نے سمری میں تجویز کردہ آپریشنل اخراجات کے جزو پر بھی غور کیا اور اس بات پر زور دیا کہ اخراجات کی مفصل تفصیلات فراہم کی جائیں جس میں شراکت دار مالیاتی اداروں کو ادائیگیاں اور آگاہی و تشہیری سرگرمیوں سے متعلق اخراجات شامل ہوں۔ ای سی سی نے ایک ارب روپے کے آپریشنل اخراجات کی اصولی منظوری دی تاہم اسے فنانس ڈویژن کو جامع تفصیلات جمع کرانے سے مشروط قرار دیا تاکہ رقوم کی تخصیص حقیقی ضروریات اور مالیاتی قواعد و ضوابط کے مطابق ہو۔ ای سی سی نے ادائیگیوں کے فوری آغاز کی ضرورت کو بھی نوٹ کیا اور ابتدائی تقسیم کو ممکن بنانے کے لیے از سر نو مختص شدہ فنڈز کے ذریعے کیے گئے اقدامات کی توثیق کی۔
اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اخراجات پاکستان کے مالیاتی وعدوں کے مطابق منظم کیے جائیں گے اور غیر استعمال شدہ رقوم کو مقررہ طریقہ کار کے تحت واپس کر دیا جائے گا۔ کمیٹی کے سامنے پیش کردہ سمری کے مطابق وزیراعظم رمضان ریلیف پیکیج 2026 کا مجموعی حجم 39 ارب روپے ہے جس میں سے 10 ارب روپے پہلے ہی (بی آئی ایس پی کے پاس دستیاب ہیں جبکہ 29 ارب روپے کا انتظام ان تین اجزاء کے ذریعے کیا گیا ہے جن پر ای سی سی نے غور کیا جن میں تکنیکی ضمنی گرانٹ، آپریشنل اخراجات اور از سر نو مختص شدہ فنڈز کی باقاعدہ منظوری شامل ہیں۔ مالیاتی ڈھانچہ اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ پیکیج کے لیے مکمل وسائل فراہم ہوں جبکہ عمل درآمد کے دوران مالیاتی نظم و ضبط اور شفافیت بھی برقرار رکھی جائے۔
ای سی سی نے رمضان المبارک کے دوران مستحق طبقات کو بروقت اور باوقار معاونت فراہم کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا جبکہ مالیاتی ذمہ داری اور امدادی اقدامات کے نفاذ میں موثر نگرانی کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔ کمیٹی نے اس امر کی تاکید کی کہ ریلیف کی فوری تقسیم اور مالیاتی احتیاط و شفافیت کے درمیان توازن برقرار رکھا جائے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیراعظم رمضان ریلیف پیکیج 2026 کوماہ مقدس کے دوران کمزور اور نادار خاندانوں کو ہدفی مالی معاونت فراہم کرنے کے ہدف کے مطابق ترتیب دیا گیاہے۔
پیکیج کا مقصد مستحقین کے انتخاب میں شفافیت اور معروضیت کو یقینی بنانا ہے جس کے لیے نیشنل سوشیو اکنامک رجسٹری (این ایس ای آر) کے ڈیٹا سے استفادہ کیا جائے گا تاکہ صوابدیدی فیصلوں کا خاتمہ اور جوابدہی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ اس کے تحت شناخت شدہ کم آمدن والے گھرانوں کو ایک مرتبہ نقد مالی امداد فراہم کی جائے گی، ساتھ ہی موجودہ سماجی تحفظ کی معاونت میں اضافہ بھی کیا جائے گا اور رقوم کی ادائیگی باضابطہ بینکاری اور ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے براہ راست مستحقین تک پہنچائی جائے گی تاکہ محفوظ اور موثر ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔









