اسلام آباد۔24اکتوبر (اے پی پی):کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے وزارت دفاع اورالیکشن کمیشن سمیت کئی وزارتوں کیلئے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری دیدی ہے جبکہ وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے عوام کی قوت خریداری تحفظ اور مجموعی قیمتوں کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل نگرانی، متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی اور بر وقت حکومتی اقدامات کی اہمیت پر …
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کااجلاس، وزارت دفاع اور الیکشن کمیشن سمیت کئی وزارتوں کیلئے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری

مزید خبریں
اسلام آباد۔24اکتوبر (اے پی پی):کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے وزارت دفاع اورالیکشن کمیشن سمیت کئی وزارتوں کیلئے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری دیدی ہے جبکہ وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے عوام کی قوت خریداری تحفظ اور مجموعی قیمتوں کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل نگرانی، متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی اور بر وقت حکومتی اقدامات کی اہمیت پر زور دیا ہے۔انہوں نے یہ بات جمعہ کویہاں کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال، وفاقی سیکریٹریز اور متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اداروں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے چیف اکانومسٹ ڈاکٹر امتیاز احمد نے ملک میں مہنگائی کے رجحانات اور قیمتوں میں اتار چڑھائو پر تفصیلی بریفنگ دی جس میں نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کی سفارشات اور نتائج بھی شامل تھے۔ ڈاکٹر امتیاز نے کمیٹی کو بتایا کہ مون سون کی حالیہ سیلاب سے قبل مہنگائی کی شرح معتدل تھی تاہم ستمبر 2025ء میں یہ بڑھ کر 5.6 فیصد تک جا پہنچی۔ اس اضافہ کی بنیادی وجہ زرعی اراضی اور مویشیوں کو پہنچنے والا نقصان ہے جس کے باعث رسدی زنجیر(سپلائی چین) متاثر ہوئی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہوا،قیمتوں کے حساس اشاریہ میں بھی اکتوبر کے دوران مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
انہوں نے پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مرغی، چاول اور ایل پی جی سمیت اگرچہ کچھ اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں کمی آئی ہے تاہم چینی، گوشت، خوردنی تیل اور گھی جیسی بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ۔ ڈاکٹر امتیاز نے کمیٹی کو بتایا کہ نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کی جانب سے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مختلف پالیسی اقدامات زیر غور ہیں جن میں عالمی قیمتوں کے اثرات پرحساسیت پرمبنی تجزیہ، وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری اور سیلاب سے متاثرہ اضلاع کے کسانوں کے لیے ہدف پرمبنی زرعی قرضہ جات شامل ہیں، مسابقتی کمیشن کو خوردنی تیل اور گھی کے شعبوں میں ممکنہ کارٹلائزیشن کے امکانات کا جائزہ لینے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ رمضان المبارک کے دوران قیمتوں کے استحکام کے لیے جامع منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے اور صوبوں کو پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کےڈیسیژن سپورٹ سسٹم سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی جا رہی ہے تاکہ مارکیٹ مانیٹرنگ اور قیمتوں کی نگرانی کو مزید موثر بنایا جا سکے۔ وزیر خزانہ نے ڈاکٹر امتیاز احمد کی جامع رپورٹ کو سراہا اور تمام متعلقہ وزارتوں و صوبائی حکام کو ہدایت کی کہ مہنگائی پر قابو پانے اور قیمتوں کے استحکام کے لیے تجویز کردہ اقدامات پر موثر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔انہوں نے مسلسل نگرانی، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور بروقت اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کے ذریعے عوام کی قوت خریداری کا تحفظ اور مارکیٹ میں استحکام یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
اجلاس میں وزارتِ تجارت کی جانب سے درآمدی پالیسی آرڈر 2022 کے تحت پری شپمنٹ انسپیکشن کو بہتر بنانے کی سمری پیش کی گئی۔ کمیٹی نے تسلیم شدہ اور رجسٹرڈ پی ایس آئی ایجنسیز کو پالیسی کے مطابق معائنہ کرنے کی اجازت دینے کی تجاویز کی منظوری دیدی۔اجلاس میں ٹرانسفرآف ریزیڈنس،پرسنل بیگج اینڈگفٹ سکیم کے تحت گاڑیوں کی درآمد کے طریقہ کار میں مجوزہ ترامیم سے متعلق وزارت تجارت کی ایک اور سمری پر غور کیا گیا ،مختلف پہلوئوں پر تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیٹی نے وزارت تجارت کو متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ مزید مشاورت کر کے اس تجویز کو دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں وزارت تجارت کی جانب سے پیش کردہ قیمتی دھاتوں اور زیورات کی درآمد و برآمد سے متعلق پالیسی پر بھی غور کیا گیا۔ ای سی سی نے موجودہ فریم ورک کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ شفافیت اور خودکار نظام میں بہتری کے لیے اقدامات کی منظوری دی تاکہ کارکردگی اور ٹریس ایبلٹی میں اضافہ ہو سکے۔اجلاس میں وزارت دفاع کی جانب سے دو سمریاں بھی پیش کی گئیں، پاکستان نیوی کے تحت پاکستان میری ٹائم سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کے قیام کے لیے 2.500 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دیدی گئی، فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے لیے متحدہ عرب امارات میں اس کی بیرونی تعمیراتی سرگرمیوں کے لیے استعمال شدہ اوور ڈرافٹ فسیلٹی کی ادائیگی کے لیے 45 ملین درہم کے مساوی رقم کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری بھی دی گئی۔
اجلاس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے مقامی حکومت کے انتخابات کے اخراجات پورے کرنے کے لیے 455.984 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ سے متعلق درخواست کی بھی منظوری دی گئی۔اجلاس میں وزارت خزانہ کی جانب سے پاکستان منٹ رہائشی کالونی میں انفرادی بجلی میٹرز کی تنصیب کے لیے 112.118 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی درخواست بھی منظور کر لی گئی۔اجلاس میں وزارت داخلہ و انسداد منشیات کی جانب سے پاکستان رینجرز (پنجاب) کے ہیڈکوارٹرز کے لیے ہیلی کاپٹر کی مرمت کے پرزہ جات کی خریداری کے لیے 21.500 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ سے متعلق سمری کی منظوری بھی دی گئی۔








