اسلام آباد ۔ 18 مارچ (اے پی پی) کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پی ایس او ہدایت کی ہے کہ ایل این جی کی درآمد پر بندرگاہ کے استعمال کے اخراجات کی مد میں پورٹ قاسم اتھارٹی کو 1.696 ارب روپے کے واجبات 10 مساوی قسطوں میں ادا کئے جائیں، ای سی سی نے پاکستان ریزز ریونیو پروگرام کے تحت ایف بی آر کیلئے 4.152 ارب روپے اور اسلام …
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ، پی ایس اوکو ایل این جی کی درآمد پر بندرگاہ کے استعمال کے اخراجات کی مد میں پورٹ قاسم اتھارٹی کو 1.696 ارب روپے کے واجبات 10 قسطوں میں ادا کرنے کی ہدایت

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 18 مارچ (اے پی پی) کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پی ایس او ہدایت کی ہے کہ ایل این جی کی درآمد پر بندرگاہ کے استعمال کے اخراجات کی مد میں پورٹ قاسم اتھارٹی کو 1.696 ارب روپے کے واجبات 10 مساوی قسطوں میں ادا کئے جائیں، ای سی سی نے پاکستان ریزز ریونیو پروگرام کے تحت ایف بی آر کیلئے 4.152 ارب روپے اور اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کیلئے 44.44 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری بھی دےدی ہے۔ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس بدھ کو یہاں کابینہ ڈویژن میں منعقد ہوا۔ وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں وزارت سمندر پار پاکستانیز و ترقی انسانی وسائل کی جانب سے بیرون ممالک روزگار کیلئے ٹاسک فورس اور سمندر پار پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کے ضمن میں تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی گئی۔ ای سی سی نے 19 فروری 2019ءکو ہونے والے اجلاس میں سمندر پار روزگار کے وسائل کی تلاش اور سمندر پار پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کیلئے وزیراعظم کے معاون خصوصی ذوالفقار عباس بخاری کی قیادت میں بین الوزارتی ٹاسک فورس قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ٹاسک فورس کو اس سلسلہ میں تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر سفارشات اور تجاویز مرتب کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی سیّد زلفی بخاری نے ای سی سی کو اس ضمن میں اہم ایشوز اور تجاویز بارے تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس کے صدر نشین نے کمیٹی کی جانب سے اٹھائے جانے والے مختلف اقدامات کی تعریف کی۔ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کمیٹی کو بجٹ کے ایک ماہ بعد دوبارہ ای سی سی میں آنے اور کمیٹی کی جانب سے سمندر پار پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات پر مزید پیشرفت بارے تفصیلی بریفنگ کی ہدایت کی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان ریزز ریونیو پروگرام کیلئے 4.152 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی گئی تاکہ ڈی ایل آئیز کے ضمن میں اہداف حاصل کئے جا سکیں اور اس ضمن میں بجٹ کے وسائل میں اضافہ بھی ممکن ہو سکے۔ ای سی سی نے اس سلسلہ میں ایف بی آر کو آئندہ اجلاس میں تفصیلی بریفنگ دینے کی ہدایت بھی کی۔ اجلاس میں وزارت میری ٹائم افیئرز کی درخواست پر پی ایس او کے ذریعے ایل این جی کی درآمد پر بندرگاہ کے اخراجات (وارفیج) کی مد میں1.696 ارب روپے کے واجبات کے معاملہ کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اس سلسلہ میں 10 مساوی قسطوں میں بغیر سود کے واجبات کی آئندہ 10 سالوں میں ادائیگی کی ہدایت کی تاہم جنوری 2023ءمیں ایک کمیٹی حالات کا جائزہ لے گی اور باقی ماندہ واجبات کی قبل از وقت ادائیگی کے امکان کی صورت میں تجاویز اور سفارشات مرتب کرے گی۔ یہ فیصلہ وفاقی وزیر اقتصادی امور حماد اظہر کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا۔ اجلاس میں اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کیلئے 44.447 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری بھی دی گئی۔ اس گرانٹ کے ذریعے اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کی حدود میں نیشنل پروگرام ار امپرومنٹ واٹر کورس فیز ٹو، گندم کی پیداوار میں اضافہ، وزیراعظم کے پروگرام سیو دی کالف اور مرغبانی کے پروگراموں پر عملدرآمد کیلئے استعمال میں لایا جائے گا۔ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری انتظامیہ کے حق میں اس گرانٹ سے دستبرداری ظاہر کی ہے۔








