کاروباری حلقوں کا اسلام آباد میں پی ای ٹی بوتلوں میں پیک مصنوعات کی فروخت پر پابندی پر تحفظات کا اظہار

کاروباری حلقوں نے اسلام آباد میں پی ای ٹی بوتلوں میں پیک مصنوعات کی فروخت پر پابندی کے اقدامات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے کاروباری سرگرمیاں، ری سائیکلنگ کی صنعت، روزگار اور سرکاری محصولات متاثر ہونے کا خدشہ ہے

اسلام آباد۔13اکتوبر (اے پی پی):کاروباری حلقوں نے اسلام آباد میں پی ای ٹی بوتلوں میں پیک مصنوعات کی فروخت پر پابندی کے اقدامات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے کاروباری سرگرمیاں، ری سائیکلنگ کی صنعت، روزگار اور سرکاری محصولات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔کاروباری حلقوں کے مطابق چیف کمشنر/چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے دفتر کی ہدایات پر دکانداروں اور روزمرہ استعمال کی اشیا بنانے والی کمپنیوں کو مختلف مصنوعات کی پی ای ٹی بوتلوں میں فروخت بند کرنے کی زبانی ہدایات دی گئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے گزشتہ رات سے کارروائیاں شروع کر دی ہیں اور بعض دکانوں کو سیل بھی کیا جا رہا ہے۔کاروباری حلقوں نے موقف اختیار کیا کہ پی ای ٹی بوتلوں پر مکمل پابندی کے سائنسی جواز واضح نہیں اور اس سے ماحول کو فائدے کے بجائے نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری سنگل یوز پلاسٹکس ریگولیشنز 2023 کے مقاصد سے بھی مطابقت نہیں رکھتا۔انہوں نے کہا کہ پی ای ٹی ایک ہلکا مواد ہے جو کھانے پینے کی اشیا کی پیکنگ میں استعمال ہوتا ہے اور اسے ری سائیکل کرکے ریشے، پیکنگ کا سامان اور نئی بوتلیں تیار کی جا سکتی ہیں۔ اس شعبے سے کچرا جمع کرنے، چھانٹی اور ری سائیکلنگ کے کام سے وابستہ افراد کو روزگار بھی ملتا ہے، جبکہ مکمل پابندی سے یہ کاروبار اور روزگار متاثر ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق پیکیجنگ کے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لیتے وقت خام مال کی تیاری، نقل و حمل، استعمال کے بعد کچرے کو جمع کرنے اور دوبارہ استعمال کرنے سمیت تمام مراحل کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ پی ای ٹی کی جگہ شیشے یا ایلومینیم کا استعمال لازماً ماحول کے لیے بہتر نہیں ہوتا، کیونکہ بھاری مواد کی نقل و حمل سے ایندھن کا استعمال اور کاربن کا اخراج بڑھ سکتا ہے، جبکہ بعض متبادل مواد کی تیاری میں بھی زیادہ توانائی اور وسائل درکار ہوتے ہیں۔کاروباری حلقوں نے کہا کہ قابلِ ری سائیکل بوتلوں پر مکمل پابندی کے بجائے کچرا جمع کرنے، اسے الگ کرنے اور دوبارہ استعمال کرنے کے نظام کو موثر بنایا جائے تاکہ پلاسٹک کو ماحول میں پھیلنے سے روکا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ یورپی یونین سمیت کئی عالمی نظاموں میں قابلِ ری سائیکل پیکیجنگ کے استعمال، کچرا جمع کرنے اور ری سائیکلنگ کے نظام کو بہتر بنانے پر زور دیا جاتا ہے، جبکہ کمپنیوں کو بھی پیکیجنگ کے فضلے کی وصولی اور دوبارہ استعمال کی ذمہ داریاں دی جاتی ہیں۔کاروباری حلقوں کا کہنا تھا کہ پاکستان انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایکٹ 1997 کے تحت اسلام آباد میں پلاسٹک کے استعمال سے متعلق 2023 کے قواعد پہلے ہی نافذ ہیں، اس لیے ان پر موثر عمل درآمد یقینی بنایا جانا چاہیے۔

انہوں نے تجویز دی کہ کمپنیوں کے تعاون سے استعمال شدہ بوتلیں جمع کرنے اور ری سائیکلنگ کا نظام بہتر بنایا جائے، کچرے کو ابتدا ہی میں الگ کیا جائے اور ری سائیکلنگ کی سہولتوں میں سرمایہ کاری بڑھائی جائے۔

مزید خبریں