پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور بقاء حکومت کی اولین ترجیح ہے، خیبر پختونخوا کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے مخلصانہ کوششیں کی جائیں گی، وزیراعظم محمد شہباز شریف کا پارلیمانی پارٹی سے خطاب

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور بقاء حکومت کی اولین ترجیح ہے، خیبر پختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عظیم قربانیاں دی ہیں،خیبر پختونخوا کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مخلصانہ کوششیں کی جائیں گی، صوبے میں سکولوں، یونیورسٹیوں اور ہسپتالوں کو فعال بنانے

اسلام آباد۔13اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور بقاء حکومت کی اولین ترجیح ہے، خیبر پختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عظیم قربانیاں دی ہیں،خیبر پختونخوا کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مخلصانہ کوششیں کی جائیں گی، صوبے میں سکولوں، یونیورسٹیوں اور ہسپتالوں کو فعال بنانے، ادویات کی فراہمی، پولیس کی تربیت، کائونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو مضبوط کرنے اور سیف سٹیز کے قیام پر توجہ دی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ خیبر پختونخوا پاکستان کا انتہائی خوبصورت صوبہ ہے اور وہاں کے عوام غیرت مند اور بہادر ہیں جنہوں نے ہمیشہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے بھرپور ساتھ دیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عظیم قربانیاں پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ 2017-18 تک پاکستان میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا تھا تاہم پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آنے پر سوات میں دہشت گرد دوبارہ آنا شروع ہوگئے اور انہیں کھلی چھوٹ دی گئی۔

وزیراعظم نے کہا کہ 2024ء میں خیبر پختونخوا میں دوبارہ حکومت بننے کے بعد گزشتہ ڈھائی سال کے دوران وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر چلنے کی حتی الامکان کوششیں کیں، سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور سے متعدد ملاقاتیں ہوئیں اور انہیں یقین دلایا گیا کہ ملک کی ترقی اور خوشحالی کا سفر مشترکہ ہے اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنا بھی مشترکہ ذمہ داری ہے، نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے بعد بھی صوبائی حکومت کے ساتھ تعاون کی کوششیں جاری رکھی گئیں۔انہوں نے کہا کہ آج خیبر پختونخوا میں عوام، پولیس اہلکار اور افسران شہید اور اغواء ہو رہے ہیں جبکہ فوج کے افسران اور جوان بھی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں، اگر دہشت گردی اور خون خرابے کا مکمل طور پر خاتمہ نہ کیا گیا تو گزشتہ ڈھائی سال کے دوران ملک نے ترقی کا جو سفر طے کیا ہے، اسے جاری رکھنا مشکل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے مسائل اور چیلنجز سے نمٹتے ہوئے ملک آگے بڑھ رہا ہے اور یہ سب ٹیم ورک، مضبوط شراکت داری، خلوص اور سنجیدگی سے ممکن ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ اور سب سے بڑھ کر پاکستان کے 24 کروڑ عوام کو قرضوں کی زنجیروں سے آزاد کرانا ہے، تاریخ میں ایسی قوموں کی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے قرضوں سے نجات حاصل کی، اس لیے پاکستان کے لیے بھی یہ ہدف حاصل کرنا ناممکن نہیں تاہم اس کے لیے محنت، امانت اور دیانت درکار ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اگر کوئی صوبائی حکومت ملک کی ترقی کے سفر کو آگے بڑھانے کے بجائے اسے ختم کرنے کے درپے ہو اور اسے یہ خدشہ ہو کہ ملک نے ترقی کرلی تو اس کی اپنی حیثیت کیا رہ جائے گی تو یہ افسوسناک صورتحال ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ خیبر پختونخوا کے عوام نہیں بلکہ صوبائی حکومت کی بات کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال اسلام آباد میں ڈی چوک پر ہونے والے دھرنے اور 2013-14 میں کئی ماہ تک جاری رہنے والے احتجاج سب کے سامنے ہیں، 2013ء میں چینی صدر شی جن پنگ کا پاکستان کا دورہ بھی ایسی ہی صورتحال کے باعث موخر ہوا ۔وزیراعظم نے کہا کہ ایسے حالات میں جب ملک کو دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہو، وفاقی حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے، افواج پاکستان کا ساتھ دینے، پولیس کو بااختیار بنانے اور انسداد دہشت گردی کے محکمے (سی ٹی ڈی) کو مضبوط کرنے کے بجائے دھرنوں، گالم گلوچ اور دشنام طرازی پر توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ ہفتوں اور مہینوں کے دوران سابق وزیراعلیٰ نے جس طرح کی باتیں اور دشنام طرازی کی وہ کوئی دشمن بھی نہیں کر سکتا۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ساتھ دینے کے بجائے افواج پاکستان کے شہداء کے خلاف دشنام طرازی کی جا رہی ہے

جبکہ دہشت گردوں کے خلاف کوئی بات کرنے کو تیار نہیں ، یہ انتہائی تشویش ناک صورتحال ہے۔وزیراعظم نے بتایا کہ جب وہ نیویارک میں تھے تو آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر نے ان سے کہا کہ ’’وزیراعظم، یہ ایک نیا پاکستان ہے۔‘‘ وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے جواب میں واضح کیا کہ پاکستان وہی ہے تاہم ملک میں تبدیلی آئی ہے اور حکومت کی جانب سے ٹیم ورک کے ذریعے کیے جانے والے اقدامات اس کا نتیجہ ہیں جس پر آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر نے کہا کہ پاکستان میں اصلاحات اور تبدیلیاں ان کی توقعات سے بھی بڑھ کر ہیں۔انہوں نے کہا کہ لندن میں بارکلیز بینک، سٹی بینک، جے پی مورگن اور دیگر بینکوں کے وفود سے بھی ان کی ملاقاتیں ہوئیں،ان بین الاقوامی اداروں کے نمائندوں نے گزشتہ ڈھائی سال کے دوران پاکستان میں آنے والی تبدیلیوں اور اصلاحات کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ ملک میں حالات مزید بہتر ہوں گے اور سرمایہ کاری آئے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ اگر دہشت گردی کا خاتمہ ہو جائے تو اس سے ہر چیز بدل سکتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب دہشت گردی پھیل رہی ہو، روزانہ قربانیاں دی جا رہی ہوں اور ایک سیاسی جماعت اپنا وقت اور وسائل ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے پر صرف کر رہی ہو تو ترقی اور خوشحالی کا سفر کیسے آگے بڑھ سکتا ہے

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام گزشتہ 13 سال سے یونیورسٹیوں، سکولوں، ہسپتالوں، ادویات کی فراہمی، بہتر امن و امان اور بدعنوانی میں کمی کے منتظر ہیں تاہم ان مسائل کے حل پر توجہ دینے کے بجائے دھرنوں اور لانگ مارچ کے لیے وقت اور وسائل صرف کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا کوئی مہذب معاشرہ اس بات کا متحمل ہو سکتا ہے کہ لوگ اسلحے کے ساتھ دھرنے کے لیے جمع ہوں؟ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے مشاورت کے بعد اس وقت فیصلہ کیا جب مذاکرات کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ انہوں نے بتایا کہ مذاکرات میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نمائندے شامل تھے اور دن رات بات چیت ہوتی رہی۔ ایک موقع پر معاہدہ طے پانے کے قریب تھا اور تمام شرائط پر اتفاق ہو چکا تھا تاہم آخری مرحلے میں مزید وقت مانگا گیا تاکہ مسودہ وزیراعلیٰ کو دکھایا جا سکے جس کے بعد مذاکرات ناکام ہوگئے، اس کے بعد صورتحال ایسی ہوگئی کہ 9 مئی جیسے واقعات دوبارہ پیدا کرنے اور تباہی مچانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔وزیراعظم نے بتایا کہ اس کے بعد مولانا فضل الرحمن سے بھی رابطہ کیا گیا اور ان سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ایک موقع پر وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ رات کے وقت جبکہ دوسری مرتبہ فجر کے وقت ان سے ملنے آئے۔

بعد ازاں کابینہ کا اجلاس ہوا جو ڈھائی گھنٹے جاری رہا جس میں اتحادی جماعتیں بھی شامل تھیں۔ تفصیلی بحث کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کو بچانے کے لیے مزید انتظار نہیں کیا جا سکتا، بصورت دیگر حالات مزید خراب ہو سکتے تھے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو اولین ترجیح دیتے ہوئے حکومت کو ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا، کیونکہ ملک کی ترقی، خوشحالی اور بقاء سے زیادہ اہم کوئی چیز نہیں۔وزیراعظم نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں ایک ایڈوائزری کونسل قائم کی گئی ہے جس میں ماہرین، پیشہ ور افراد، ڈاکٹرز، ماہرین تعلیم اور مالیاتی امور کے ماہرین شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ صوبے میں بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے، تعلیمی ادارے اور ہسپتال فعال ہوں، ادویات دستیاب ہوں، امن و امان بہتر بنایا جائے اور دہشت گردی کا موثر مقابلہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پولیس کی تربیت، سی ٹی ڈی کو مضبوط بنانے اور سیف سٹیز کے قیام کے ذریعے صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے پر توجہ دی جائے گی اور اس کے نتائج واضح طور پر سامنے آئیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت خلوص نیت کے ساتھ خیبر پختونخوا کے عوام کی خدمت کرے گی اور انہیں دکھائے گی کہ ترقیاتی منصوبے کس طرح شروع کیے جاتے ہیں، انہیں کس طرح مکمل کیا جاتا ہے اور امن و امان کو کیسے بہتر بنایا جاتا ہے۔

انہوں نے خیبر پختونخوا کے عوام کو بہادر، غیرت مند اور مہمان نواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی خوشحالی، ترقی اور وقار کی بحالی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان اقدامات کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ اور عوام کی خدمت ہے۔