کاروبار کرنے کی لاگت کم کرنے کے لیے بجٹ میں خصوصی اقدامات کو شامل کیا جائے ، پاکستان بزنس فورم کی بجٹ تجاویز
کاروبار کرنے کی لاگت کم کرنے کے لیے بجٹ میں خصوصی اقدامات کو شامل کیا جائے ، پاکستان بزنس فورم کی بجٹ تجاویز

مزید خبریں
اسلام آباد۔4مئی (اے پی پی):پاکستان بزنس فورم نے مالی سال 27-2026 کے لیے اپنی بجٹ تجاویز وزارتِ خزانہ کو ارسال کر دی ہیں۔ فورم نے حکومت پر زور دیا ہے کہ آئندہ ماہ پیش کیے جانے والے وفاقی بجٹ میں معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے واضح حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔ صدر پاکستان بزنس فورم خواجہ محبوب الرحمن نے اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کاروباری برادری شدید کو مختلف مسائل کا سامنا ہے جن کے خاتمہ کیلئے کاروبار دوست اقدامات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے کیونکہ یہ ٹیکس عارضی بنیادوں پر نافذ کیا گیا تھا ۔ فورم کی جانب سے کاروبار کرنے کی لاگت کم کرنے کے لیے بجٹ میں خصوصی اقدامات کو شامل کرنے سمیت کارپوریٹ ٹیکس میں بتدریج کمی کے ذریعہ کاروباری طبقہ کو ریلیف فراہم کرنے کی تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں۔
مزید برآں پاکستان بزنس فورم نے تجویز دی ہے کہ فنانس بل سے سیکشن 37AA، 37B، 14AC اور 14AD کو ختم کیا جائے۔ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے تاجروں پر ماہانہ 10 ہزار روپے فکس ٹیکس عائد کیا جائے ۔ اس کے ساتھ ساتھ فکسڈ ٹیکس کو بجلی کے بلوں میں شامل کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے تاکہ حکومت اور تاجروں کے لیے آسانی پیدا ہو۔
اسی طرح ٹیکسٹائل برآمدات کے فروغ کے لیے مقامی کاٹن سیڈ اور آئل کیک پر سیلز ٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ پاکستان بزنس فورم کے مطابق سیلز ٹیکس کے نفاذ کے باعث گزشتہ چند برسوں میں کپاس کی مقامی پیداوار کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔
گرین پاکستان انیشی ایٹو کے تحت کارپوریٹ فارمنگ کے فروغ کے لیے سات سالہ ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز دی گئی ہے جس سے بڑے پیمانے پر زرعی اراضی کو زیرِ کاشت لایا جا سکے گا۔تعمیرات کے شعبہ میں سرمایہ کاری بحال کرنے کے لیے سیکشن 7E کے خاتمہ اور سیکشن 8 اور 8B میں ترامیم کی سفارش کی گئی ہے۔
فورم نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت آئندہ بجٹ معاشی ترقی پر خصوصی توجہ دے گی۔ پاکستان بزنس فورم کی جانب سے نان فائلرز کو تین سے زائد گاڑیاں رکھنے کی اجازت نہ دینے، انڈر انوائسنگ کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات اور رہائشی سوسائٹیز میں شفافیت کے لئے کمپنیوں کو پبلک لمیٹڈ اسٹرکچر میں منتقل کرنے کی تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں۔
پاکستان بزنس فورم کے مطابق ان اقدامات سے نہ صرف کارپوریٹ گورننس بہتر ہو گی بلکہ ٹیکس وصولی میں بھی نمایاں اضافہ ممکن ہو سکے گا اور عوام کی سرمایہ کاری کو بھی محفوظ بنایا جا سکے گا۔








