کاشتکاروں مرچ کی پنیری جنوری میں کھیتوں میں منتقل کر دیں ، محکمہ زراعت توسیع فیصل آباد

فیصل آباد۔ 13 دسمبر (اے پی پی):کاشتکاروں کومرچ کی پنیری جنوری کے مہینہ میں کھیتوں میں منتقل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہےاورکہاگیاہے کہ کاشتکارمرچ کی پنیر ی کی کھیت میں منتقلی سے پہلے فی ایکڑ 10 سے12 ٹن گوبر کی گلی سڑی کھاد میں 20 کلو گرام یوریا ملا کر استعمال کریں اورکھیت کی آبپاشی بھی کی جائے نیز وتر آنے پر 2 سے 3 مرتبہ ہل بمعہ سہاگہ …

فیصل آباد۔ 13 دسمبر (اے پی پی):کاشتکاروں کومرچ کی پنیری جنوری کے مہینہ میں کھیتوں میں منتقل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہےاورکہاگیاہے کہ کاشتکارمرچ کی پنیر ی کی کھیت میں منتقلی سے پہلے فی ایکڑ 10 سے12 ٹن گوبر کی گلی سڑی کھاد میں 20 کلو گرام یوریا ملا کر استعمال کریں اورکھیت کی آبپاشی بھی کی جائے نیز وتر آنے پر 2 سے 3 مرتبہ ہل بمعہ سہاگہ چلا کرزمین کو کھلا چھوڑ دیں تاکہ جڑی بوٹیاں کاشت سے پہلےاگ آئیں اسی طرح کاشتکار مرچ کی پنیری کی کاشت کیلئے ایسی ذرخیز میرازمین کاانتخاب کریں

جس میں نامیاتی مادہ وافرمقدارمیں موجود ہو کیونکہ ایسی زمین نمی دیر تک برقرار رکھنے کی صلاحیت کی حامل ہوتی ہے اورمرچ کی جڑیں زمین کے نیچے سے آسانی سے خوراک حاصل کرکے خوب نشوونما پاتی ہیں۔محکمہ زراعت توسیع فیصل آباد کے اسسٹنٹ ڈائریکٹرڈاکٹر خالد اقبال نے کہاکہ کاشتکار جڑی بوٹیاں اگنے کے بعد دوبارہ ہل چلا کر جڑی بوٹیوں کی تلفی کرتے ہوئے کھیت کو کھلا چھوڑ دیاجائے تاکہ دھوپ لگنے سے زمینی بیماریوں کے جراثیم ختم ہوجائیں۔

انہوں نے کہاکہ زمین تیارکرنے کے بعد اڑھائی فٹ چوڑی اور8 سے10 انچ گہری کھیلیاں بناکر مرچ کی پنیری کی منتقلی کے وقت پنیری والے کھیت کی ہلکی آبپاشی بھی کی جائے اور پنیری کو کھیت سے وتر حالت میں اس طرح اکھاڑاجائے کہ اس کی جڑیں نہ ٹوٹنے پائیں۔انہوں نے کہاکہ مرچ کی نرسری کے پودے کھیلیوں کے دونوں طرف ایک فٹ کے فاصلے پر لگاک کھیت کو پانی لگادیاجائے۔انہوں نے پنیر ی کی منتقلی کے بعد فصل کوکورے کےاثرات سے محفوظ کرنے کیلئے شمالی ومغربی سائیڈ پر سرکنڈے وغیرہ کی باڑ لگانے کی بھی ہدایت کی۔