فیصل آباد۔ 22 جنوری (اے پی پی):کاشتکاروں کو سورج مکھی کی بہتر پیداوار کے حصول کیلئے آلو کی برداشت کے بعد وتر آنے پر زمین کی تیاری میں راجہ ہل یا ڈسک ہل پوری گہرائی تک چلانا چاہیئے اور کاشت کیلئے میرازمین کا انتخاب بہترین فصل کے حصول کا ضامن بن سکتا ہے۔یہ بات ڈائریکٹر زراعت توسیع چوہدری خالد محمود نے اے پی پی کو بتائی۔انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں …
کاشتکاروں کو سورج مکھی کی بہتر پیداوارکیلئے زمین کی تیاری میں راجہ ہل یا ڈسک ہل پوری گہرائی تک چلانے کی ہدایت

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 22 جنوری (اے پی پی):کاشتکاروں کو سورج مکھی کی بہتر پیداوار کے حصول کیلئے آلو کی برداشت کے بعد وتر آنے پر زمین کی تیاری میں راجہ ہل یا ڈسک ہل پوری گہرائی تک چلانا چاہیئے اور کاشت کیلئے میرازمین کا انتخاب بہترین فصل کے حصول کا ضامن بن سکتا ہے۔یہ بات ڈائریکٹر زراعت توسیع چوہدری خالد محمود نے اے پی پی کو بتائی۔انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کو چاہیے کہ وہ سورج مکھی کی فصل کی کاشت کیلئے بھاری میرا زمین کا انتخاب کریں نیز خالی زمین میں یا آلو کی برداشت کے بعد وتر آنے پر زمین کی تیاری میں راجہ ہل یا ڈسک ہل پوری گہرائی تک چلایا جائے اور دو تین ہل بمعہ سہاگہ چلائے جائیں تاکہ زمین میں پودے کی جڑیں خوب پھیل سکیں۔ انہوں نے کہا کہ کھادوں کا استعمال زمین کی زرخیزی اور قسم کو مد نظر رکھ کرکئے جانے سے مزید بہتر فصل حاصل ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کاشتکار اچھے اگاؤ والے صاف ستھرے دوغلی اقسام کے بیج کا انتخاب کریں۔ سورج مکھی کی زیادہ پیداوار حاصل کرنے کیلئے حکومت کی منظور شدہ ہائبرڈ اقسام کا شت کی جائیں اور شرح بیج دو سے اڑھائی کلو گرام فی ایکڑ رکھی جائے۔انہوں نے کہا کہ بیج کا اگاؤ 90فیصد سے زیادہ ہونا چاہیے۔انہوں نے مزید بتا یا کہ درمیانی زرخیز زمین میں پہلی دفعہ بوائی کے وقت ایک بوری ڈی اے پی اور ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ کااستعمال بھی بہترین پیداوار کے حصول کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
چوہدری خالد محمودنے کہا کہ تیل کی درآمد پر سالانہ خرچ ہونے والا اربوں روپے کا قیمتی ملکی زرمبادلہ بچانے کیلئے پاکستان کو زیادہ سے زیادہ سورج مکھی اور دیگر تیلدار اجناس کی کاشت کی جانب توجہ دیناہو گی جس کیلئے رواں موسم انتہائی موزوں ہے۔ انہوں نے بتایاکہ پنجاب میں سورج مکھی کی بہاریہ کاشت کے حوالے سے جنوبی علاقوں ملتان، بہاولپوراور ڈیرہ غازیخان ڈویژن میں موزوں ترین وقت 10فروری، ساہیوال، فیصل آباد اور سرگودھا ڈویژن میں 15فروری جبکہ لاہور، گوجرانوالہ اور راولپنڈی ڈویژن میں آخر فروری تک ہے۔انہوں نے کاشتکاروں کو ہدایت کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ رقبہ پر سورج مکھی کی کاشت کریں جس سے انہیں 110 سے 120 دن میں فصل مل سکتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ میرا اور بھاری میرا زمین سورج مکھی کی کاشت کیلئے موزوں ہے نیز مقامی طور پر تیار کردہ ہائبرڈ ایف ایچ 33اور بیرون ملک سے درآمد شدہ ہائبرڈ بیج ہر علاقہ میں دستیاب ہے۔انہوں نے کہاکہ کاشتکار پودوں کی مطلوبہ تعداد کے حصول کیلئے 2سے اڑھائی کلوگرام بیج فی ایکڑ ڈالیں اور بوائی کیلئے ایسا ڈبلر استعمال کریں جس میں کھیلیوں کا درمیانی فاصلہ 23سینٹی میٹر (9انچ)ہو۔اسی طرح ایک سوراخ میں کم از کم 2بیج ڈالے جائیں اور بیجوں کو ہاتھوں سے ہلکی سی مٹی کی تہہ ڈال کر ڈھانپ دیاجائے۔








