کاشتکار جولائی کاشتہ مکئی کو بیماریوں سے بچانے کیلئے فوری اقدامات کریں،ماہرین

فیصل آباد۔ 27 اگست (اے پی پی):گرم اور مرطوب موسم میں سٹاک راٹ، نوزائیدہ پودوں کے مرجھاؤ، تنے کے گالا، برگی دھبے اور کنگی جیسی بیماریاں موسمی کاشتہ مکئی پر حملہ آور ہوسکتی ہیں لہٰذا کاشتکار جولائی کاشتہ مکئی کو بیماریوں سے بچانے کیلئے فوری اقدامات کریں۔شعبہ پلانٹ پروٹیکشن، پیسٹ وارننگ اینڈ کوالٹی کنٹرول آف پیسٹی سائیڈزمحکمہ زراعت فیصل آباد کے ماہر اسرار احمد نے بتایاکہ موسمی حالات بالخصوص بارشوں، …

فیصل آباد۔ 27 اگست (اے پی پی):گرم اور مرطوب موسم میں سٹاک راٹ، نوزائیدہ پودوں کے مرجھاؤ، تنے کے گالا، برگی دھبے اور کنگی جیسی بیماریاں موسمی کاشتہ مکئی پر حملہ آور ہوسکتی ہیں لہٰذا کاشتکار جولائی کاشتہ مکئی کو بیماریوں سے بچانے کیلئے فوری اقدامات کریں۔شعبہ پلانٹ پروٹیکشن، پیسٹ وارننگ اینڈ کوالٹی کنٹرول آف پیسٹی سائیڈزمحکمہ زراعت فیصل آباد کے ماہر اسرار احمد نے بتایاکہ موسمی حالات بالخصوص بارشوں، نقصان رساں کیڑوں اور بیماریوں کے حملہ کا امکان جولائی کاشتہ مکئی کی فصل میں زیادہ ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ گرم اور مرطوب موسم میں مکئی کے نوزائیدہ پودوں کے مرنے کا احتمال بڑھ جاتا ہے نیز سٹاک راٹ یا تنے کے گالا کی بیماری کے حملہ پہچان یہ ہے کہ چھلیوں کے پکنے پر یہ ٹوٹ کر لٹک جاتی ہیں اور ان میں موجود دانے کمزور رہ جاتے ہیں اس طرح پودے خشک ہوکر درمیان سے ٹوٹ جاتے ہیں اور پیداوار میں کمی ہوجاتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ اس بیماری کے حملہ کے بچاؤ کیلئے جن کھیتوں میں بار بار مکئی کی کاشت کی جارہی ہو تو وہاں مکئی کی بجائے متبادل فصلیں کاشت کی جائیں اور ٹاپسن ایم زہر بحساب 2.5گرام فی کلوگرام بیج کو لگا کر کاشت کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ موسمی کاشتہ مکئی کی فصل پر کونپل کی مکھی، گھوڑا مکھی، چست تیلہ، لشکری سنڈی،تنے یا چھلی کا گڑووں اور جوئیں حملہ آور ہوتی ہیں اسلئے ان نقصان رساں کیڑوں کے حملہ سے فصل کو محفوظ بنانے کیلئے ہفتہ میں دوبار پیسٹ سکاؤٹنگ کی جائے۔

انہوں نے کہاکہ کونپل کی مکھی اور تنے یا چھلی کے گڑوویں کے حملہ کے بروقت تدارک کیلئے کاربوفیوران بحساب 10کلوگرامپہلے 50یوم کے اندر دو مرتبہ کونپلوں میں ڈالیں اسی طرح چست تیلہ اور گھوڑ امکھی کے حملہ کی صورت میں میڈا کلوپرڈ 250ملی لیٹر یا موسپیلان یا اسیٹا میپرڈ بحساب 125ملی لیٹر یا ڈایا فینتھوران بحساب200ملی لیٹر 100لیٹر پانی میں ملا کر سپرے کریں۔انہوں نے کہاکہ لشکری سنڈی کے حملہ کی صورت میں کاشتکار لیفیونران بحساب200ملی لیٹر اور امریکن سنڈی کے حملہ کی صورت میں ایما میکٹن بحساب 200ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں تاہم چھلیاں بننے کے بعد زہر پاشی نہ کی جائے۔