لاہور۔27اکتوبر (اے پی پی):محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ کاشتکار دھان کی باقیات کو آگ لگانے سے گریز کریں ۔ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق کاشتکاردھان کی کٹائی کے بعد باقیات کو آگ لگانے سے گریز کریں کیونکہ اس عمل سے نہ صرف زمین کی زرخیزی متاثر ہوتی ہے بلکہ ماحول اور انسانی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ فصلوں کی باقیات کو جلانے سے فضائی آلودگی …
کاشتکار دھان کی باقیات کو آگ لگانے سے گریز کریں،ترجمان محکمہ زراعت پنجاب
لاہور۔27اکتوبر (اے پی پی):محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ کاشتکار دھان کی باقیات کو آگ لگانے سے گریز کریں ۔ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق کاشتکاردھان کی کٹائی کے بعد باقیات کو آگ لگانے سے گریز کریں کیونکہ اس عمل سے نہ صرف زمین کی زرخیزی متاثر ہوتی ہے بلکہ ماحول اور انسانی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ فصلوں کی باقیات کو جلانے سے فضائی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں سانس اور دیگر بیماریوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب سموگ کنٹرول پروگرام کے تحت 5 ارب روپے کی لاگت سے کاشتکاروں کو5 ہزار سپر سیڈرز60 فیصد سبسڈی پر فراہم کئے گئے ہیں جس کے استعمال سے دھان کی باقیات کو کار آمد بنایا جا سکتا ہے۔ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے مزید کہا ہے کہ کاشتکار کھیتوں میں دھان کی باقیات کو جلانے کی بجائے ان کو زمین میں ملا دیں، اس سے زمین کی نامیاتی مادے کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے اور اگلی فصل کے لئے زمین کی زرخیزی میں بھی بہتری آتی ہے۔
کاشتکار دھان کی دستی کٹائی کی صورت میں روٹا ویٹر اور مشینی کٹائی کی صورت میں ڈسک ہیرو کے استعمال سے باقیات کو زمین میں ملائیں یا گہرا ہل چلا کر آدھی بوری یوریا فی ایکڑ چھٹہ کر کے پانی لگا دیں۔اس سے زمین کی زرخیزی میں اضافہ ہوگا۔ترجمان نے کہا کہ حکومت پنجاب کے قوانین کے مطابق دھان کی باقیات کو آگ لگانا قابلِ سزا جرم ہے، اس لیے کسانوں سے درخواست ہے کہ وہ اس غیر قانونی عمل سے گریز کریں اور ماحول کو آلودگی سے بچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔









