کالعدم ’’جیک‘‘ کو افغانستان سے اسلحہ سپلائی کرنے والا بین الاقوامی نیٹ ورک کو پکڑ لیا، وزیر مملکت برئے داخلہ کی پریس کانفرنس

کالعدم ’’جیک‘‘ کو افغانستان سے اسلحہ سپلائی کرنے والا بین الاقوامی نیٹ ورک کو پکڑ لیا، وزیر مملکت برئے داخلہ کی پریس کانفرنس

اسلام آباد۔16ستمبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے انکشاف کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران آزاد کشمیر کی کالعدم تنظیم ’’جیک‘‘ کی قیادت کو سرحد پار سے غیر قانونی اسلحہ فراہم کرنے والا منظم نیٹ ورک پکڑ لیا ہے جس میں ترسیل کے لیے ایک سرکاری ملازم اپنے سرکاری کور کو بطور سہولت کار استعمال کر رہا تھا۔بدھ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ نے نیٹ ورک کے فرانزک شواہد، آڈیو ریکارڈنگز اور تفتیشی تفصیلات میڈیا کے سامنے رکھیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ کارروائی ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف جاری روزانہ تقریباً 200 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا حصہ ہے، جس کے ذریعے افغانستان، باڑہ، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے درمیان قائم ٹیرر کرائم نیکسس کو توڑا گیا ہے۔سینیٹر طلال چوہدری نے نیٹ ورک کے طریقہ کار کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ آپریشن کا آغاز کشمیر موڑ پر فورسز پر فائرنگ کے بعد ضیا نامی ملزم کی گرفتاری سے ہوا، جو گزشتہ دو سال سے کالعدم جیک کے سرکردہ رکن سردار امان کے کارِ خاص ماجد کو اسلحہ فراہم کر رہا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اسلحہ افغانستان کے صوبے ننگرہار سے زرشاد نامی ڈیلر کے ذریعے باڑہ پہنچایا جاتا تھا، جہاں سے اکبر نامی ایک سرکاری ملازم اپنے سرکاری عہدے اور استثنا کو ڈھال بنا کر اسے مختلف چیک پوسٹوں سے باآسانی گزار کر آزاد کشمیر منتقل کرتا تھا۔وزیر مملکت نے واضح کیا کہ ملزمان کے درمیان 22 لاکھ روپے کی ڈیل ہوئی جس میں سے 11 لاکھ روپے ہنڈی کے ذریعے ادا کیے گئے جبکہ سرکاری ملازم بطور کیریئر فی پھیرا ایک سے دو لاکھ روپے وصول کرتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جیک کے 38 میں سے 37 مطالبات تسلیم کیے جانے کے باوجود کشمیر میں انتخابات کے دوران پرتشدد کارروائیاں کرائی گئیں تاکہ بیرونی اشارے پر ریاست کے خلاف سازش کی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ سمگلنگ، منشیات، نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور غیر قانونی پیٹرول پمپوں کے پیچھے موجود سیاسی اور سرکاری سہولت کاروں کے گٹھ جوڑ کو توڑے بغیر دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ وزیر مملکت نے ٹیرر کرائم نیکسس میں ملوث عناصر کو کڑی سزائیں دلوانے کے لیے سخت دہشت گردی مخالف قوانین اور سپیڈی ٹرائل کورٹس کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔