کان کے 60 فیصد تک مختلف امراض قابل علاج اور 40 فیصد تک ناقابل علاج ہوتے ہیں، ڈاکٹرشہزاد حسین

اسلام آباد۔1مارچ (اے پی پی):عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)کے مطابق دنیا بھر میں سماعت کی دیکھ بھال کی 80 فیصد سے زیادہ ضروریات پوری نہیں ہوتیں، کان کے مختلف امراض پر سالانہ تقریباً ایک ٹریلین ڈالر کے اخراجات آتے ہیں۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں کان اور سماعت اور عالمی دن ہر سال 3 مارچ کو منایا جاتا ہے جس کا مقصد عام آدمی کو کان کی اہمیت اور …

اسلام آباد۔1مارچ (اے پی پی):عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)کے مطابق دنیا بھر میں سماعت کی دیکھ بھال کی 80 فیصد سے زیادہ ضروریات پوری نہیں ہوتیں، کان کے مختلف امراض پر سالانہ تقریباً ایک ٹریلین ڈالر کے اخراجات آتے ہیں۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں کان اور سماعت اور عالمی دن ہر سال 3 مارچ کو منایا جاتا ہے جس کا مقصد عام آدمی کو کان کی اہمیت اور سماعت کی بیماریوں سے آگاہی فراہم کرنا ہے۔

عالمی دن پر انسان کےلئے سماعت کی طاقت کی اہمیت اور کان کی بیماریوں سے تحفظ کے حوالے سے عوامی سطح پر آگاہی فراہم کی جاسکتی ہے۔ رواں سال عالمی یوم سماعت کا موضوع’’ خاندان سے سکول تک، ہر بچے کی سماعت کی دیکھ بھال‘‘ منتخب کیا گیا ہے تاکہ سماعت کے مسائل کی بروقت تشخیص اور چھوٹے بچوں میں اس کے علاج کی اہمیت کو اجاگر کیا جاسکے۔

ماہرین صحت نے کہا ہے کہ کان کے 60 فیصد تک مختلف امراض قابل علاج جبکہ 40 فیصد تک ناقابل علاج ہوتے ہیں۔ کان یا سماعت کے قابل علاج امراض میں 31 فیصد بیماریاں مختلف انفیکیشنز سے تعلق رکھتی ہیں جن میں کان کا انفیکیشن، خسرہ، گردن توڑ بخار، روبیلا (ہلکے بخار کا وائرل مرض جسے تین دن کا خسرہ بھی کہا جاتا ہے اور کن پیڑے) وغیرہ شامل ہیں۔ اسی طرح کان کے دیگر قابل علاج 17 فیصد امراض بچوں کی پیدائش سے تعلق رکھتے ہیں جن میں قبل از وقت پیدائش ، پیدائش کے وقت کی پیچیدگیاں اور پیدائش کے وقت بچوں کا وزن کم ہونا شامل ہے۔

اسی طرح کان کی چار فیصد قابل علاج امراض کا تعلق مختلف ادویات کے رد عمل سے ہے جبکہ 8 فیصد امراض دیگر وجوہات کے سبب پیدا ہوتی ہیں جو قابل علاج ہیں۔ ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ کان میں روئی یا ماچس کی تیلی سمیت کسی اور چیز سے صفائی کا عمل کان کی صحت کےلئے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے جو قوت سماعت کو متاثر کرنے کے علاوہ قوت سماعت سے محروم بھی کر سکتا ہے۔

معروف میڈیکل سپیشلسٹ ڈاکٹر شہزاد حسین نے کہا ہے کہ قدرت نے کان کی صفائی کا خود ساختہ نظام وضع کر رکھا ہے جس کے تحت کان میں موجود دو گلینڈز خود بخود ایک خاص قسم کا مواد یا چکنائی خارج کرتے ہیں جسے عام زبان میں ویکس کہا جاتا ہے جو کان میں موجود ایئر ڈرمز یعنی کان کے پردے کو خشک ہونے سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کاٹن بڈ یا روئی کے استعمال سے یہ چکنائی کان کے پردے تک نہیں پہنچ پاتی اور پردوں کے خشک ہونے کی وجہ سے کان میں درد یا تکلیف شروع ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کان کے گلینڈز میں کسی انفیکیشن کے باعث پردہ سماعت متاثر ہونے اور کان درد کی تکلیف بھی پیدا ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانوں کی از خود صفائی کرنے کی بجائے کسی ماہر سرجن سے صفائی کرانی چاہیے تاکہ قوت سماعت کے نقصان سے بچا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ منشیات کا استعمال بھی کانوں کے امراض کا سبب بن سکتا ہے جبکہ فرسٹ کزن میرج سے خاندان میں گونگے اور بہرے بچوں کی پیدائش کا خطرہ موجود ہوتا ہے جس کے تحفظ کےلئے میرج کونسلنگ انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موبائل فون کا بجا استعمال، ہیڈ فونز اور ہینڈ فری ، بلند ارتعاش کی موسیقی، پریشر ہارن اور شور شرابا بھی کان کے مختلف امراض کا سبب بنتے ہیں۔

ڈاکٹر شہزاد حسین نے ہدایت کی کہ قدرت کی عطا کردہ قوت سماعت کی انمول نعمت کا ہر ممکن تحفظ کیا جائے کیونکہ سماعت کے متاثر ہونے کے بعد اس نعمت کا دوبارہ ملنا نا ممکن ہے۔