کثیر زرمبادلہ کمانے کیلئے آرگینک فارمنگ بڑھانے کی حکمت عملی اپنانے پر خصوصی توجہ دینا ہو گی،پاکستان کسان بورڈ

فیصل آباد۔ 14 جون (اے پی پی):پاکستان کسان بورڈکے مرکزی رہنمامیاں ریحان الحق نے کہا کہ ہمیں جدید زرعی ٹیکنالوجی کو کسان کے کھیت تک موثر انداز میں منتقل کرنے کیلئے ضلعی سطح پر پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے نظام کو بہتر بنانا ہو گاجبکہ کثیر زرمبادلہ کمانے کیلئے آرگینک فارمنگ سمیت زرعی اجناس کی برآمدات بڑھانے کی حکمت عملی اپنانے اور زرعی اجناس کی درآمدات کم کرنے کی پالیسی …

فیصل آباد۔ 14 جون (اے پی پی):پاکستان کسان بورڈکے مرکزی رہنمامیاں ریحان الحق نے کہا کہ ہمیں جدید زرعی ٹیکنالوجی کو کسان کے کھیت تک موثر انداز میں منتقل کرنے کیلئے ضلعی سطح پر پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے نظام کو بہتر بنانا ہو گاجبکہ کثیر زرمبادلہ کمانے کیلئے آرگینک فارمنگ سمیت زرعی اجناس کی برآمدات بڑھانے کی حکمت عملی اپنانے اور زرعی اجناس کی درآمدات کم کرنے کی پالیسی پربھی خصوصی توجہ دینا ہو گی۔

اے پی پی سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے جبکہ دنیا بھر میں غذائی اجناس اور دودھ و گوشت کی مصنوعات کی مانگ کے ساتھ ساتھ بھاری زر مبادلہ کمانے کے وسیع امکانات موجود ہیں لہٰذا ہمیں دیہی افراد خصوصاً کاشتکاروں اور مویشی پال حضرات کی بھرپور معاونت کرنا ہوگی تاکہ وہ ملکی معاشی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے زراعت و لائیو سٹاک کی ترقی کیلئے مزید سہولیا ت و مراعات کا اعلان ضروری ہے جس کے مثبت نتائج حاصل ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ قومی معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے کسانوں اور مویشی پال حضرات کی خوشحالی کیلئے طویل المدتی زرعی اصلاحات اور تمام سٹیک ہولڈرز کے اشتراک سے قابل عمل و موثر زرعی پالیسی کے نفاذ کو ہنگامی بنیادوں پر یقینی بنانا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ شعبہ زراعت کو اولین ترجیحات میں شامل رکھنا ہوگا اور جی ڈی پی میں اس شعبہ کے حصہ کے مطابق ترقیاتی وسائل کی فراہمی ممکن بنانا ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں پیداواری لاگت کم کر کے بھارت، چین، ترکیہ، ملائیشیا، برازیل اور دیگر بیشتر ممالک کی طرح ہر سال زرعی مداخل پر باقاعدگی سے سبسڈی میں اضافہ بھی یقینی بنا نا ہوگا۔انہوں نے ماحولیاتی تغیرات سے نمٹنے کیلئے زرعی تحقیق کے اداروں کو زیادہ وسائل فراہم کرنے کے علاوہ زرعی تحقیق کو سرکاری و نجی شعبے کے مابین اشتراک سے مزید مربوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔