کرپٹو کرنسی سے متعلق درج مقدمے میں ملزم حماد علی سمیت دیگر کی عبوری ضمانتیں منظور

لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ نے کرپٹو کرنسی سے متعلق درج مقدمے میں ملزم حماد علی سمیت دیگر درخواست گزاروں کی عبوری ضمانتیں منظور کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بادی النظر میں ایف آئی آر میں درج جرائم درخواست گزاروں کے خلاف ثابت نہیں ہوتے اور تفتیش کے دوران ایسا کوئی ثبوت بھی سامنے نہیں آیا جو انہیں الیکٹرانک فراڈ، دھوکا دہی، جعلسازی یا مدعی کے کرپٹو کرنسی اکانٹس …

لاہور۔30جولائی (اے پی پی):لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ نے کرپٹو کرنسی سے متعلق درج مقدمے میں ملزم حماد علی سمیت دیگر درخواست گزاروں کی عبوری ضمانتیں منظور کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بادی النظر میں ایف آئی آر میں درج جرائم درخواست گزاروں کے خلاف ثابت نہیں ہوتے اور تفتیش کے دوران ایسا کوئی ثبوت بھی سامنے نہیں آیا جو انہیں الیکٹرانک فراڈ، دھوکا دہی، جعلسازی یا مدعی کے کرپٹو کرنسی اکانٹس منجمد ہونے سے جوڑتا ہو۔

جسٹس طارق سلیم شیخ نے عبوری ضمانت کی درخواستوں پر 15 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ درخواست گزاروں کے خلاف فی الحال ایسا کوئی مواد موجود نہیں جو ان پر عائد الزامات کی تائید کرتا ہو۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ تفتیشی افسر کو ہر اکاونٹ ہولڈر کے کردار کا الگ الگ جائزہ لینے کا اختیار حاصل ہے۔ درخواست گزار اپنی جانب سے مطلوبہ ریکارڈ پہلے ہی تفتیشی افسر کے حوالے کر چکے ہیں، جبکہ تفتیشی افسر متعلقہ اداروں سے مزید ریکارڈ طلب کرکے بھی تحقیقات کو آگے بڑھا سکتا ہے۔فیصلے میں مقدمے کے پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ مدعی نے ابتدائی طور پر کرپٹو کرنسی میں 50 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی۔

مدعی کے مطابق کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں مندی آنے سے اسے مالی نقصان اٹھانا پڑا، جس کے بعد اس نے گھر کا سامان، گاڑی اور سونا فروخت کرکے مزید رقم بھی کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کی۔عدالت نے فیصلے میں مدعی کے موقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے مطابق بعد ازاں کرپٹو کرنسی اکانٹس منجمد ہوگئے، جس پر اس نے اپنی رقم دوستوں کے اکاونٹس کے ذریعے نکلوانے کی کوشش کی۔ مدعی کا مزید موقف تھا کہ ملزمان نے بینک اکاونٹس کے ذریعے کرپٹو کرنسی کے شیئرز خریدے لیکن رقم واپس نہیں کی۔عدالت نے قرار دیا کہ مذکورہ معاملات کی مکمل چھان بین تفتیش کے دوران کی جا سکتی ہے، تاہم موجودہ مرحلے پر درخواست گزاروں کو الزامات سے براہ راست منسلک کرنے کے لیے خاطر خواہ شواہد موجود نہیں ہیں، اس لیے ان کی عبوری ضمانتیں منظور کی جاتی ہیں۔