کسی بھی تہذیب کی ترقی کا انحصار خلائی ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنے پر ہے،ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے نوجوانوں کیلئے لاکھوں نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے،احسن اقبال

اسلام آباد۔28اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ کسی بھی تہذیب کی ترقی کا انحصار خلائی ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنے پر ہے، قرآن مجید میں ہمیں تسخیر کائنات کا حکم دیا گیا ہے۔ منگل کو ہائی سپیڈ انٹرنیٹ اور کمرشل سیٹلائٹ کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ خلائی ٹیکنالوجی "اڑان پاکستان" …

اسلام آباد۔28اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ کسی بھی تہذیب کی ترقی کا انحصار خلائی ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنے پر ہے، قرآن مجید میں ہمیں تسخیر کائنات کا حکم دیا گیا ہے۔ منگل کو ہائی سپیڈ انٹرنیٹ اور کمرشل سیٹلائٹ کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ خلائی ٹیکنالوجی "اڑان پاکستان” وژن کا بنیادی ستون ہے اور گزشتہ دو سال کے دوران پاکستان نے چار سیارے خلاء میں بھیجے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے اب اپنے سیٹلائٹ کے ذریعے انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے جو ملک کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں ایک سنگ میل ہے۔پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ حکومت فائبر، فائیو جی اور کمرشل سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے امتزاج سے ایک جدید اور منسلک پاکستان کی بنیاد رکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ای-پاکستان” کا مقصد ملک کے ہر گوشے سے نوجوانوں کو دنیا سے جوڑنا ہے تاکہ وہ ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بن سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر سکول اور صحت کے مرکز کو براڈبینڈ سے منسلک کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے تاکہ تعلیم، صحت اور کاروبار کے مواقع سب کے لیے یکساں دستیاب ہوں۔وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے نوجوانوں کے لیے لاکھوں نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ ان کے مطابق ای-پاکستان محض ایک نعرہ نہیں بلکہ جدید معیشت اور گورننس کی بنیاد ہے۔

انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ اب محض رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ پیداوار کا بنیادی انفراسٹرکچر بن چکا ہے اور حکومت ہر شہری تک تیز رفتار انٹرنیٹ کی رسائی یقینی بنا رہی ہے۔احسن اقبال نے مزید کہا کہ دوردراز علاقوں کو جوڑنے کے لیے سیٹلائٹ انٹرنیٹ کلیدی کردار ادا کرے گا جس سے دورافتادہ علاقے بھی ترقی کے قومی دھارے میں شامل ہو سکیں گے۔وزیر منصوبہ بندی نے اس موقع پر اعلان کیا کہ پاکستان کا پہلا خلاء باز 2026ء میں خلاء میں جائے گا جو ملک کی سائنسی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔