لاہور۔21دسمبر (اے پی پی):وزیر ِاعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کسی بھی ملک و قوم کے آگے بڑھنے کیلئے سیاسی استحکام ضروری ہے،اس سے معاشی استحکام آتا ہے لیکن سیاسی استحکام میں حائل کون ہے،اس بات کی نشاندہی کرنا بھی ضروری ہے،سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتیں اس پر دو ٹوک اور واضح موقف کیوں نہیں اپنا تے کہ سیاسی مکالمے سے کونسی جماعت انکاری ہے؟ پی …
کسی بھی ملک و قوم کے آگے بڑھنے کیلئے سیاسی استحکام ضروری ہے،رانا ثنا اللہ

مزید خبریں
لاہور۔21دسمبر (اے پی پی):وزیر ِاعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کسی بھی ملک و قوم کے آگے بڑھنے کیلئے سیاسی استحکام ضروری ہے،اس سے معاشی استحکام آتا ہے لیکن سیاسی استحکام میں حائل کون ہے،اس بات کی نشاندہی کرنا بھی ضروری ہے،سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتیں اس پر دو ٹوک اور واضح موقف کیوں نہیں اپنا تے کہ سیاسی مکالمے سے کونسی جماعت انکاری ہے؟ پی ٹی آئی کے دوسرے درجے کی قیادت خود کہتی ہیں اور وہ یقین رکھتے ہیں کہ سیاسی مکالمہ ہونا چاہئے لیکن وہ کہتے ہے کہ وہ نہیں مانتے اور اپنے گالم گلوچ بریگیڈ کے خوف سے اپنا نام بھی ظاہر نہیں کرتے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو ایوان اقبال میں عظیم سیاسی رہنما، جمہوریت کے علمبردارخواجہ محمد رفیق شہید کی 53ویں یوم شہادت کے موقع پر منعقدہ قومی سیمینار بعنوان "قومی سلامتی کے تقاضے اور پائیدار جمہوری نظام کی ضرورت”سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ خواجہ محمد رفیق عظیم شخصیت تھے۔انہوں نے کہا کہ خواجہ سعد رفیق، خواجہ محمد رفیق کے مشن کو اسی جذبے اور عزم کے ساتھ جاری رکھے۔انہوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ لڑائی جھگڑا اور فساد سے کوئی قوم آگے نہیں بڑھ سکتی لیکن اس بات کی نشاندہی بھی کرنی ہوگی کہ کون ہے جو ملک میں سیاسی مکالمہ کرنے کو تیار نہیں اور سیاسی استحکام نہیں چاہتا۔
انہوں نے کہا کہ پہلے اسلام آباد پر مسلح لوگوں کو ساتھ حملہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ایک دفعہ پھر پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ انتخابات پر بات ہوئی اور معاملات طے ہوگئے،پی ٹی آئی قیادت نے کہا کہ ہمیں بانی پی ٹی آئی سے اجازت لینی ہے لیکن ان کو اجازت نہیں ملی۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ 9مئی کا واقعہ ہمارے سامنے ہے اس کے بعد پھر 26نومبر 2024کا واقعہ ہوا اور اب 26نومبر 2025کی تیاری ہورہی تھی اور یہ تیاری جیل میں ملاقاتوں کے ذریعے ہونی تھی۔انہوں نے کہا کہ کیا قانون اس طرح فساد کرنے کی اجازت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب ہمشیرہ عظمی خان سے ملاقات ہوئی اس کے بعد باہر آکر انہوں نے جو گفتگو کی اور ٹوئیٹ ہوا یہ بھی پوری قوم کے سامنے ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام اس وقت آتا ہے جب ملک میں سیاسی جماعتیں مکالمہ ترک کریں اور تصادم کا راستہ اختیار کریں۔انہوں نے کہا کہ اس ملک کے انٹلیکچول اس بات کی نشاندہی کریں کہ مکالمے سے کونسی جماعت انکاری ہے اور تصادم کا راستہ اختیار کرنے پر بضد ہے،اگر ہم نہیں ہے تو پھر اس کا نام لیں جو تصادم چاہتے ہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا 25جولائی 2018 کے انتخابات درست ہوئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا دعوی ہے کہ ہماری 45 سیٹیں کسی اور جماعت کو دے دی گئی تھی اور کسی اور کو وزیراعظم بنایا گیا تھا لیکن اس کے باوجود جب بانی پی ٹی آئی اسمبلی ہال میں آئے تو شہباز شریف نے بطوراپوزیشن لیڈر کہا کہ ہمارے ساتھ دھاندلی ہوئی ہے اور آپ کو وزیراعظم بنایا گیا ہے اس کے باوجود ہم آپ کے ساتھ بیٹھنے اور مذاکرات کرنے کو تیار ہے،ملک کیلئے میثاق معیشت کرنے کو تیار ہے اور بلاول بھٹو نے بھی اس بات کی تائید کی لیکن اس کے بعد جو بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب بھی وزیراعظم شہباز شریف نے ان کو مذاکرات کی دعوت دی تھی اور جب بجٹ پاس ہوا تو وزیراعظم خود اپوزیشن رہنماوں سے ملنے اسمبلی ہال میں ان کے پاس گئے لیکن خود بانی پی ٹی آئی اپوزیشن کے ساتھ بات کرنے کو تیار نہ تھے۔رانا ثنااللہ نے کہا کہ یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئے میثاق استحکام پاکستان کریں۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ معرکہ حق میں پاکستان کو بڑی کامیابی ملی جس پر نہ صرف قوم کو فخر ہے بلکہ دشمن سمیت دنیا بھی اس کو تسلیم کرتی ہے،اور دنیا نے پاک فوج کے سربراہ کو اس کا کریڈٹ دیا لیکن اس کے خلاف بھی پروپیگنڈہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ان چیزوں پر بھی معاشرے کو بات کرنی چاہئے۔








