کسی فریق کو نوٹس کی تعمیل اور سماعت کا موقع دیے بغیر یکطرفہ فیصلہ نہیں دیا جا سکتا، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی فریق کو قانون کے مطابق نوٹس کی تعمیل اور موثر سماعت کا موقع دیے بغیر اس کے خلاف یکطرفہ فیصلہ جاری نہیں کیا جا سکتا، عدالت نے جائیداد کی فروخت کے معاہدے پر عمل درآمد سے متعلق مقدمے میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے اور ماتحت عدالت کی یکطرفہ کارروائی کالعدم قرار دیتے ہوئے مقدمہ ازسرنو فیصلے کے لیے ٹرائل کورٹ کو بھجوا …

اسلام آباد۔12اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی فریق کو قانون کے مطابق نوٹس کی تعمیل اور موثر سماعت کا موقع دیے بغیر اس کے خلاف یکطرفہ فیصلہ جاری نہیں کیا جا سکتا، عدالت نے جائیداد کی فروخت کے معاہدے پر عمل درآمد سے متعلق مقدمے میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے اور ماتحت عدالت کی یکطرفہ کارروائی کالعدم قرار دیتے ہوئے مقدمہ ازسرنو فیصلے کے لیے ٹرائل کورٹ کو بھجوا دیا۔جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے غلام مجتبیٰ مرحوم کے قانونی ورثا کی درخواست اور متعلقہ سول اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔

عدالت نے تفصیلی تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ متبادل طریقے سے نوٹس کی تعمیل کا حکم دینے سے پہلے معمول کے ذرائع سے نوٹس کی تعمیل کی قانونی کوششیں کرنا اور اس بات پر مطمئن ہونا ضروری ہے کہ فریق کو معمول کے طریقے سے نوٹس نہیں دیا جا سکتا یا وہ جان بوجھ کر نوٹس وصول کرنے سے گریز کر رہا ہے۔فیصلے کے مطابق مقدمے کی دوبارہ سماعت کے دوران سابقہ وکیل نے ہدایات نہ ہونے کے باعث پیش ہونے سے معذرت کی تھی۔ اس بیان کو فریقین کو نوٹس کی تعمیل تصور نہیں کیا جا سکتا جبکہ عدالتی ریکارڈ پر بھی ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا جس سے ثابت ہو کہ متعلقہ فریقین کو قانون کے مطابق نوٹس موصول ہوئے تھے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ کسی وکیل کی سابقہ پیشی کی بنیاد پر یہ تصور نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے اپنے موکل کی جانب سے نوٹس وصول کر لیا ہے خصوصاً جب وکیل واضح طور پر بتا چکا ہو کہ اسے اپنے موکل کی طرف سے ہدایات حاصل نہیں ہیں۔ ہر فریق کو اپنا موقف پیش کرنے، شواہد دینے اور دفاع کا موثر موقع ملنا چاہیے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نوٹس کی تعمیل میں قانونی تقاضے پورے نہ کرنا محض تکنیکی غلطی نہیں بلکہ منصفانہ سماعت کے بنیادی اصول سے متعلق معاملہ ہے، کسی فریق کو سنے بغیر اس کے خلاف فیصلہ نہیں دیا جا سکتا اور عدالتی طریقہ کار میں کوتاہی کا نقصان کسی فریق کو نہیں پہنچنا چاہیے۔مقدمے کے مطابق غلام مجتبیٰ اور غلام مرتضیٰ کے درمیان 30 نومبر 2004ء کو جائیداد کی فروخت کا معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت مجموعی قیمت 73 لاکھ 12 ہزار 500 روپے طے پائی تھی۔ خریدار نے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے دعویٰ دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ مجموعی طور پر 25 لاکھ روپے ادا کر چکا ہے تاہم فروخت کنندہ نے بیع نامہ نہیں کیا۔ٹرائل کورٹ نے ابتدائی کارروائی کے بعد مقدمہ دوبارہ سماعت کے لیے بھجوائے جانے پر مدعا علیہان کی عدم موجودگی میں 2 نومبر 2016ء کو یکطرفہ فیصلہ جاری کیا۔

بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ کے ملتان بینچ نے 20 فروری 2023ء کو متعلقہ درخواست مسترد کر دی جسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ اور دوبارہ کارروائی کے دوران جاری ہونے والا یکطرفہ فیصلہ و متعلقہ احکامات کالعدم قرار دیتے ہوئے مقدمہ ٹرائل کورٹ کو ازسرنو فیصلے کے لیے بھجوا دیا۔عدالت نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ فریقین کو قانون کے مطابق نوٹس کی موثر تعمیل یقینی بنانے کے بعد تحریری موقف جمع کرانے، شواہد پیش کرنے اور دلائل دینے کا مکمل موقع فراہم کیا جائے۔ ٹرائل کورٹ مقدمے کا فیصلہ قانون کے مطابق کرے اور فریقین کی پہلی پیشی سے چار ماہ کے اندر فیصلہ کرنے کی حتی الامکان کوشش کرے۔عدالت نے فریقین کو 26 اکتوبر 2026ء کو متعلقہ ڈسٹرکٹ جج کے روبرو پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ مقدمے کے اصل تنازع کے میرٹ پر کوئی رائے نہیں دی گئی اور ٹرائل کورٹ تمام شواہد اور فریقین کے موقف کی روشنی میں آزادانہ فیصلہ کرے گی۔