جنیوا ۔ 12 جون (اے پی پی) برطانوی ماہر اور تاریخ دان وکٹوریہ سکوفیلڈ نے کہاہے کہ جموں و کشمیر میں اقوامِ متحدہ کی زیر نگرانی رائے شماری کرانامسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل کی قراردادوں کاایک بنیادی جزو ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق وکٹوریہ سکوفیلڈنے جو کشمیر پر متعدد کتب کی مصنفہ بھی ہیں جنیوا میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 35ویں اجلاس کے موقع پر ایک بین الاقوامی تقریب سے …
کشمیر میں اقوامِ متحدہ کی زیر نگرانی رائے شماری سلامتی کونسل کی قراردادوں کا بنیادی جزو ہے ، برطانوی تاریخ دان

مزید خبریں
جنیوا ۔ 12 جون (اے پی پی) برطانوی ماہر اور تاریخ دان وکٹوریہ سکوفیلڈ نے کہاہے کہ جموں و کشمیر میں اقوامِ متحدہ کی زیر نگرانی رائے شماری کرانامسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل کی قراردادوں کاایک بنیادی جزو ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق وکٹوریہ سکوفیلڈنے جو کشمیر پر متعدد کتب کی مصنفہ بھی ہیں جنیوا میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 35ویں اجلاس کے موقع پر ایک بین الاقوامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اگر پورے جموں و کشمیر میں رائے شماری کرانا ایک مسئلہ ہے تو اقوامِ متحدہ ایک علاقائی رائے شماری کا انعقاد کرا سکتی ہے۔انہوںنے کہاکہ اقوامِ متحدہ ریاست کے ہر علاقے میں الگ الگ رائے شماری کرا سکتی ہے۔انہوںنے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے ذریعے ہی مسئلہ کشمیر کا حل ممکن ہے۔ وکٹوریہ سکوفیلڈنے بھارت کے الزامات کہ کشمیری متشدد ہیں ،کے خلاف کشمیریوں کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر پر سات دہائیوں پر مشتمل بھارتی فوجی قبضے نے کشمیریوں کو” مشکل” ضرور بنا دیا ہے لیکن” نقصان دہ” نہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیری سال 1931ءسے حقِ خود ارادیت کے حصول کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے 1947ءسے 16 سال قبل اپنی جدوجہد کا آغاز کیا تھا جب بھارت حملہ کر کے کشمیر پر قابض ہوا تھا۔ انہوں نے کشمیریوں کے روز مرہ مسائل کو اجاگر کرنے کیلئے کشمیریوں کی بھارتی قابض فوج کے لگائے گئے کرفیو کی نذر ہونے والی زندگی کا یورپ کی شہری زندگی سے موازنہ بھی کیا۔تقریب میں وکٹوریہ سکوفیلڈکے علاوہ بھارتی مقبوضہ کشمیر، فلسطین، مغربی صحارا اور اقوامِ متحدہ میں منصفانہ عالمی نظام کے فروغ کےلئے سرگرم آزاد پسند کارکن الفریڈ ڈی زیاس نے شرکت کی۔








