کلینیکل ورکشاپس بہتر طبی سہولیات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں،ہما کیانی

خواجہ محمد صفدر میڈیکل کالج سیالکوٹ کے شعبہ چشم (آفتھلمولوجی) کے زیر اہتمام کلینیکو پیتھولوجیکل کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں آنکھ کی چوٹوں کی بروقت تشخیص، جدید علاج اور حفاظتی تدابیر پر روشنی ڈالی گئی۔کانفرنس کی صدارت کالج کی پرنسپل ممتاز ماہر امراض چشم پروفیسر ڈاکٹر ہما کیانی سیگل نے کی۔

سیالکوٹ۔ 15 جولائی (اے پی پی):خواجہ محمد صفدر میڈیکل کالج سیالکوٹ کے شعبہ چشم (آفتھلمولوجی) کے زیر اہتمام کلینیکو پیتھولوجیکل کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں آنکھ کی چوٹوں کی بروقت تشخیص، جدید علاج اور حفاظتی تدابیر پر روشنی ڈالی گئی۔کانفرنس کی صدارت کالج کی پرنسپل ممتاز ماہر امراض چشم پروفیسر ڈاکٹر ہما کیانی سیگل نے کی۔

اس موقع پر پوسٹ گریجویٹ ریذیڈنٹس ڈاکٹر اسما کیانی اور ڈاکٹر ندا زاہد نے انٹرا آکیولر فارن باڈی کے مریضوں کی تشخیص، علاج، جدید طبی تحقیق اور مینجمنٹ پروٹوکول پر جامع پریزنٹیشن پیش کی۔کالج پرنسپل نے کہا کہ آنکھ میں داخل ہونے والے ہر بیرونی ذرے کو جلد نکالنا ضروری ہے کیونکہ تاخیر کی صورت میں سمپیتھیٹک آفتھلمیا جیسی پیچیدگی پیدا ہو سکتی ہے جو دونوں آنکھوں کی بینائی متاثر کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بروقت تشخیص، فوری علاج ، احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے طبی عملے پر زور دیا کہ جراحی اور دیگر طبی طریقہ کار کے دوران حفاظتی چشمے ضرور استعمال کیے جائیں تاکہ ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔

انہوں نے شعبہ چشم کی کاوشوں، بہترین تیاری اور علمی معیار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی علمی سرگرمیاں مریضوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔شعبہ ریڈیالوجی کی سربراہ ڈاکٹر ایشا حبیب بٹ نے بتایا کہ آنکھ میں داخل ہونے والے بیرونی ذرات کی درست نشاندہی اور محفوظ سرجری کی منصوبہ بندی کے لیے سی ٹی سکین، ایکسرے اور الٹراساؤنڈ انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس موقع پر ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر منیب الرحمن نے سوال و جواب کی نشست کی میزبانی کی، جس میں شرکا کے طبی سوالات کے جوابات دیئے گئے اور عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔