کمبوڈیا نے امریکا کے شہر نیویارک میں واقع میٹروپولیٹن میوزیم آف آرٹ (میٹ) کی جانب سے دو لوٹے گئے خمیر دور کے نایاب تاریخی نوادرات کی واپسی کا خیرمقدم کیا ہے۔
کمبوڈیا کو امریکا سے دو نایاب خمیر تاریخی نوادرات واپس مل گئے
پنوم پنہ ۔11جون (اے پی پی):کمبوڈیا نے امریکا کے شہر نیویارک میں واقع میٹروپولیٹن میوزیم آف آرٹ (میٹ) کی جانب سے دو لوٹے گئے خمیر دور کے نایاب تاریخی نوادرات کی واپسی کا خیرمقدم کیا ہے۔شنہوا کے مطابق کمبوڈیا کی وزارتِ ثقافت و فنونِ لطیفہ کی جانب سے جمعرات کو جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ نوادرات مین ہیٹن ڈسٹرکٹ اٹارنی کے دفتر کی کارروائی کے بعد میوزیم سے تحویل میں لے کر کمبوڈیا کے حوالے کیے گئے۔دونوں تاریخی آثار کی منتقلی کی باضابطہ تقریب بدھ کے روز نیویارک میں مین ہیٹن ڈسٹرکٹ اٹارنی کے دفتر میں منعقد ہوئی۔وزارت کے مطابق یہ واپسی دسمبر 2023 میں حاصل ہونے والی ایک اہم کامیابی کا تسلسل ہے، جب میٹروپولیٹن میوزیم نے کئی برسوں پر محیط مذاکرات کے بعد خمیر تہذیب سے تعلق رکھنے والے 14 نوادرات کمبوڈیا کو واپس کیے تھے۔واپس کیے گئے نوادرات میں ساتویں یا آٹھویں صدی عیسوی کے قبل از انگکور دور کا ایک سنگِ ریت سے تیار کردہ دروازے کا نقش دار حصہ (لنٹل) شامل ہے، جس پر "کالا” کی علامتی شبیہ نقش ہے۔ دوسرا نوادر دسویں صدی کا انگکوری دور کا سنگِ ریت سے بنا مجسمہ ہے، جس کی شناخت ہندو دیومالا کے کردار "ہیرنیاکشیپو” کے طور پر کی گئی ہے۔ یہ مجسمہ کوہ کیر آثارِ قدیمہ کے مقام پر واقع پراسات چین مندر سے تعلق رکھتا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ مین ہیٹن ڈسٹرکٹ اٹارنی کے دفتر کے اینٹی کوئٹیز ٹریفکنگ یونٹ نے ایسے شواہد پیش کیے جن سے ثابت ہوا کہ یہ دونوں نوادرات غیر قانونی اسمگلنگ کے ایک نیٹ ورک کے ذریعے بیرونِ ملک منتقل کیے گئے تھے۔ شواہد کا جائزہ لینے کے بعد میٹروپولیٹن میوزیم نے ان آثار کی کمبوڈیا واپسی پر رضامندی ظاہر کر دی۔









