کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی قانون کے عمل سے خودکار ہوتی ہے، محکمہ انتظامی تاخیر نہیں کر سکتا، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ قانون میں ’’تصور کیے جانے‘‘ (Deemed) کی شق شامل ہو تو مقررہ شرائط پوری کرنے والے کنٹریکٹ ملازمین کی حیثیت قانون کے عمل سے خود بخود مستقل ملازم میں تبدیل ہو جاتی ہے، متعلقہ محکمہ مستقلی کے عمل میں انتظامی تاخیر نہیں کر سکتا۔

اسلام آباد۔24اگست (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ قانون میں ’’تصور کیے جانے‘‘ (Deemed) کی شق شامل ہو تو مقررہ شرائط پوری کرنے والے کنٹریکٹ ملازمین کی حیثیت قانون کے عمل سے خود بخود مستقل ملازم میں تبدیل ہو جاتی ہے، متعلقہ محکمہ مستقلی کے عمل میں انتظامی تاخیر نہیں کر سکتا۔

جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف کمیونٹی آف اوپتھلمولوجی (پیکو) پشاور کے ڈین کی جانب سے دائر سول پٹیشن خارج کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز اپیلیٹ ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھا۔تفصیلی فیصلہ میں عدالت نے قرار دیا کہ 2006 کی ترمیمی قانون سازی کے ذریعے کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل ملازم تصور کرنے کا واضح قانونی حکم دیا گیا تھا جس پر اس کی روح اور متن کے مطابق عملدرآمد ضروری ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ‘‘Deemed’’ کی شق نے مقررہ شرائط پوری ہونے کی صورت میں کنٹریکٹ ملازمین کی حیثیت قانون کے تحت خود بخود تبدیل کر دی۔ محکمہ پابند تھا کہ قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے کاغذی کارروائی مکمل کرتا، انتظامی تاخیر سے ملازمین کے قانونی حق کو متاثر نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے کہا کہ اگر محکمہ قانونی حکم کے باوجود کنٹریکٹ ملازم کی حیثیت مستقل کرنے سے انکار کرے تو یہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔ قانون کا اطلاق خودکار طور پر شروع ہو گیا تھا، محکمہ مستقلی کے عمل کو مصنوعی طور پر موخر نہیں کر سکتا۔فیصلے میں کہا گیا کہ فائدہ مند قانون کا مقصد کنٹریکٹ ملازمین کو سہولت فراہم کرنا ہے، اس لیے ایسے قانون پر تمام اہل ملازمین کے لیے بلاامتیاز عملدرآمد ہونا چاہیے۔ فائدہ مند اور اصلاحی قانون کی تشریح بھی اس انداز میں ہونی چاہیے جس سے قانون کا مقصد پورا ہو، نہ کہ محدود تشریح سے اس کا فائدہ ختم ہو جائے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ آئین کا آرٹیکل 4 قانون کے سامنے مساوات اور قانون کے یکساں تحفظ کے اصول کو اجاگر کرتا ہے جبکہ آرٹیکل 3 ریاست کو ہر قسم کے استحصال کے خاتمے اور آرٹیکل 38 عوام کی فلاح، معیار زندگی بہتر بنانے اور آجر و ملازم کے حقوق میں منصفانہ توازن قائم کرنے کا پابند کرتا ہے۔عدالت کے مطابق دونوں ملازمین 26 دسمبر 2001ء کو پیکو، حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور میں مقرر ہوئے اور 2001ء سے بغیر کسی وقفے کے فرائض انجام دیتے رہے۔

2006ء کی ترمیم کے بعد متعلقہ قانون نے مقررہ شرائط پوری کرنے والے کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل ملازم تصور کیا تھا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ خیبر پختونخوا میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز اپیلیٹ ٹربیونل کے فیصلے میں کوئی قانونی خامی یا نقص موجود نہیں۔عدالت نے ڈین پیکو کی سول پٹیشن خارج کرتے ہوئے اپیل کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔