اسلام آباد۔30ستمبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں ایف سی ہیڈ کوارٹر پر ہونے والا حملہ سکیورٹی فورسز کی بہادری سے ناکام بنایا گیا، حملہ آور عمارت کے اندر داخل نہ ہو سکے اور تمام دہشت گرد موقع پر ہی مارے گئے، دھماکے میں ایف سی اہلکار اور شہری شہید اور متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔وہ منگل کو ایوان بالا میں …
کوئٹہ میں ایف سی ہیڈ کوارٹر پر ہونے والا حملہ سکیورٹی فورسز کی بہادری سے ناکام بنایا گیا، وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد۔30ستمبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں ایف سی ہیڈ کوارٹر پر ہونے والا حملہ سکیورٹی فورسز کی بہادری سے ناکام بنایا گیا، حملہ آور عمارت کے اندر داخل نہ ہو سکے اور تمام دہشت گرد موقع پر ہی مارے گئے، دھماکے میں ایف سی اہلکار اور شہری شہید اور متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔وہ منگل کو ایوان بالا میں اراکین سینٹ کے مختلف سوالات کے جواب اور کوئٹہ دھماکے سے متعلق مختلف سوالات کا جواب دے رہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ منگل کو ایف سی ہیڈ کوارٹرز پر ایک اور بزدلانہ حملہ ہوا جس کی ابتدائی نشاندہی سامنے آئی ہے۔ حملہ آوروں نے پہلے گاڑی سے خودکش دھماکہ کیا، پھر مختلف وردیوں میں چھپ کر دوبارہ داخل ہونے کی کوشش کی مگر وہ عمارت میں داخل نہ ہو سکے۔ سکیورٹی فورسز کی بروقت اور بہادرانہ کارروائی کے نتیجے میں حملہ ناکام بنا دیا گیا اور حملہ آور مارے گئے۔دھماکے میں ایف سی اہلکاروں اور سویلین شہریوں کے زخمی اور شہید ہونے کی اطلاع ہے، حتمی اعداد و شمار بعد میں پیش کیے جائیں گے۔
انہوں نے بتا کہ خودکش دھماکے کے فوراً بعد حملہ آوروں نے ایف سی کی وردیوں میں چھپ کر ایف سی ہیڈ کوارٹر میں داخل ہونے کی کوشش کی۔بروقت کارروائی کے باعث کوئی حملہ آور عمارت کے اندر داخل نہ ہو سکا اور جو افراد حملہ آور تھے وہ مارے گئے۔حتمی تعداد اور تفصیلی فہرست حکام کی جانب سے جلد پیش کی جائے گی۔وزیر مملکت داخلہ نے کہا کہ ایک مرتبہ پھر بھارتی میڈیا پر اس حملے کی فوٹیج اور حملہ آوروں کی پریس ریلیز سب سے پہلے کیسے پہنچ گئی۔ پہلے بھی پاکستان نے بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد اور ڈوئیزر دنیا کے مختلف سفارت خانوں میں بھجوائے ہیں ۔
طلال چوہدری نے کہا کہ فرنٹیئر کور اور دیگر سکیورٹی اہلکاروں نے بہادری سے کارروائی کی، حملہ ناکام بنایا گیا اور متعدد سپاہیوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔وزیر مملکت نے فورسز کی جرات اور قربانی پر خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ سیاسی قیادت کو فورسز کے پیچھے یک زبان ہو کر کھڑا ہونا چاہیے۔وزیر مملکت نے کہا کہ گمشدہ افراد کے مسئلہ پر حکومت کی پالیسی "زیرو ٹالرنس” ہے۔مسنگ پرسنز کمیشن کے نئے سربراہ (جس کی سربراہی سپریم کورٹ کے جج کر رہے ہیں) کا تقرر مکمل ہو چکا ہے اور کمیشن شفاف تحقیقات کرے گا۔
ملک میں مسنگ افراد کے دعووں اور اعداد و شمار کی حقیقت پسندی پر زور دیا گیا — موجودہ اعداد و شمار محدود ہیں اور بیانیہ غلط طریقے سے استعمال نہ کیا جائے۔طلال چوہدری نے سیاسی جماعتوں، صوبوں اور وفاقی قیادت پر زور دیا کہ وہ سکیورٹی فورسز کے پیچھے کھڑے ہوں۔2017-18 کے تجربے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ جب سیاسی قوتیں متحد رہیں تو دہشت گردی کے خلاف کامیابی ممکن ہوئی۔ اسی طرح ایک واضح قومی حکمت عملی اور قومی ایکشن پلان کی ضرورت ہے۔سیاسی اختلافات کو پس پشت رکھ کر قومی مفاد میں یکجہتی اختیار کرنے کی اپیل کی گئی ہے تاکہ دہشت گردی کی لہر کو پائیدار طور پر شکست دی جا سکے۔








