کورونا وائرس کی عالمگیروباءسے پاکستان کی برآمدات کو شدید دھچکا لگا ہے، حکومت احتیاطی تدابیرکو بروئے کارلاتے ہوئے معیشت کو چلانے کی کوشش کررہی ہے، مشیرخزانہ عبد الحفیظ شیخ

اسلام آباد ۔ 9 مئی (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ومحصولات عبد الحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی عالمگیروباءسے پاکستان کی برآمدات کو شدید دھچکا لگا ہے، حکومت احتیاطی تدابیرکو بروئے کارلاتے ہوئے معیشت کو چلانے کی کوشش کررہی ہے، چھوٹے اوردرمیانہ درجہ کے کاروبارسمیت تجارتی سرگرمیوں میں تیزی لانے کیلئے اقدامات جاری ہےں۔یہ بات انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کہی ہے۔ انہوں نے …

اسلام آباد ۔ 9 مئی (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ومحصولات عبد الحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی عالمگیروباءسے پاکستان کی برآمدات کو شدید دھچکا لگا ہے، حکومت احتیاطی تدابیرکو بروئے کارلاتے ہوئے معیشت کو چلانے کی کوشش کررہی ہے، چھوٹے اوردرمیانہ درجہ کے کاروبارسمیت تجارتی سرگرمیوں میں تیزی لانے کیلئے اقدامات جاری ہےں۔یہ بات انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت نے اپنے پہلے سال یہی کوشش رہی کہ معیشت کو کیسے سنبھالا جائے،ہم نے کوشش کی کہ حسابات جاریہ کے خسارے کو کم کریں اوراس میں ہمیں کامیابی ملی ہیں، حکومت نے کرنٹ اکاوَنٹ خسارہ میں خاطرخواہ کمی لانے میں کامیابی حاصل کی ۔وزیراعظم کے مشیرنے کہاکہ معیشت کو مستحکم بنانے کیلئے حکومت نے جو اقدامات کئے تھے اس کے مطابق ہمارا اندازہ تھا کہ مجموعی قومی پیداوارمیں اضافہ ہوگا تاہم کورونا وائرس کی وباءکی وجہ سے اب جی ڈی پی میں کمی کا اندازہ ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومتی اقدامات کے نتیجہ میں برآمدات میں اضافہ ہورہاتھا جبکہ روپیہ کی قدرمیں استحکام آرہاتھا، ہماری کوشش تھی کہ ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں تاہم وباءکی وجہ سے باعث پوری دنیا متاثر ہوئی ہے اوراس کے اثرات پاکستان پربھی مرتب ہوئے۔ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہاکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پوری دنیا کے جی ڈی پی میں 3 فیصد کمی کا امکان ظاہرکیاہے،پاکستان میں دکانوں، مالز اور چھوٹی صنعتوں کے بند ہونے سے معیشت میں کمی آئی ہے۔مشیر خزانہ نے کہا کہ کوشش ہے کہ معیشت کو لاک ڈاوَن ہونے سے بچائیں اورجن صنعتوں اورکاروبار کو کھولا جاسکتا ہے ان کو کھولا جائے۔ انہوں نے کہاکہ مئی اور جون میں کورونا وائرس کے اثرات سے نمٹنا ہے، ان مہینوں میں حکومت کے ساتھ ساتھ شہریوں کوبھی ذمہ داری کامظاہرہ کرتے ہوئے حفاظتی تدابیرپرعمل پیرا ہونا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ حکومت شہریوں بالخصوص معاشرے کے کمزوراورغریب طبقات کے ہاتھوں میں نقد امداد کی فراہمی کیلئے کام کررہی ہے تاکہ وہ کاروبار زندگی کو چلا سکیں۔حکومت نے کسانوں سے 280 ارب روپے کی گندم خریدنے کافیصلہ کیاہے اس سے بڑی اقتصادی سرگرمیاں پیدا ہوں گی ، اس کے علاوہ ایک کروڑ 20لاکھ خاندانوں کو 144 ارب روپے دیئے جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ جو انڈسٹری اپنے ورکرز کو تنخواہ نہیں دے پارہی ہے ان کو4 فیصد پر قرضہ دیا جائے ۔ چھوٹے تاجروں کو 1 اور2 فیصد کی شرح سے آسان قرضے دئیے جائیں گے ۔ایک سوال پرانہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت نے معیشت کو دستاویزی بنانے کے ضمن میں جامع اقدامات کئے ہیں تاہم وباءکی وجہ سے اب اس عمل میں زیادہ سختی نہیں کی جاسکتی اسی طرح محصولات کی وصولیوں پر بھی اثرات مرتب ہوئے ہیں تاہم حکومت کوشش کررہی ہے کہ چھوٹے اوردرمیانہ درجہ کے کاروبارکوزیادہ سے زیادہ سہولیات اورمراعات دی جائے کیونکہ یہ شعبہ نجی شعبے میں روزگارکی فراہمی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔

مزید خبریں