وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ سولر منصوبے پر تیز رفتاری سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سولر، ٹرانسمیشن اور سڑکوں کے منصوبوں پر بیک وقت کام کیا جائے تاکہ بجلی کے بحران پر جلد قابو پایا جا سکے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال کی گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ سولر منصوبے پر تیز رفتاری سے عملدرآمد کی ہدایت

مزید خبریں
اسلام آباد۔2ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ سولر منصوبے پر تیز رفتاری سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سولر، ٹرانسمیشن اور سڑکوں کے منصوبوں پر بیک وقت کام کیا جائے تاکہ بجلی کے بحران پر جلد قابو پایا جا سکے۔وفاقی وزیر نے یہ ہدایات وزیراعظم کی جانب سے گلگت بلتستان کے ترقیاتی مسائل کا جائزہ لینے اور خطے کی ترقی کے لیے قابل عمل سفارشات مرتب کرنے کے لیے قائم کمیٹی کے دوسرے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔اجلاس میں وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین زہیر، گلگت بلتستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف، وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے ویڈیو لنک کے ذریعے جبکہ وفاقی اور گلگت بلتستان حکومتوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں گلگت بلتستان کو درپیش توانائی، مالیات و محصولات، سیاحت، ریگولیٹری فریم ورک، ادارہ جاتی استعداد اور ترقیاتی منصوبوں سمیت اہم امور پر قائم کمیٹیوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ 10.6 ارب روپے کا نلتر پاور پراجیکٹ تکمیل کے قریب ہے جبکہ 12.9 ارب روپے کا ہنزل پاور پراجیکٹ بھی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔اجلاس میں 24.9 ارب روپے کے پی ایس ڈی پی منصوبے ’’گلگت بلتستان کے مختلف مقامات پر 100 میگاواٹ ڈسٹری بیوٹڈ سولر فوٹو وولٹک (ڈی پی وی) پلانٹس‘‘ پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔پروفیسر احسن اقبال نے منصوبے کو گلگت بلتستان میں بجلی کی شدید قلت کے خاتمے کے لیے انتہائی اہم اور ترجیحی منصوبہ قرار دیتے ہوئے اس پر عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ منصوبے میں چھتوں اور بڑے پیمانے پر سولر تنصیبات کے ساتھ متعلقہ ٹرانسمیشن لائنز اور رسائی کی سڑکیں بھی شامل ہیں۔ گلگت بلتستان حکومت کے دائرہ کار میں آنے والی ٹرانسمیشن اور سڑکوں کی تعمیر صوبائی حکومت مکمل کرے گی۔
وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ منصوبے کے وفاقی اور گلگت بلتستان حکومت سے متعلق حصوں پر بیک وقت کام کیا جائے، نہ کہ مرحلہ وار تاکہ منصوبے کی تکمیل میں غیر ضروری تاخیر نہ ہو۔ انہوں نے گلگت بلتستان حکومت کو اپنی ذمہ داری کے تحت آنے والی سڑکوں اور ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر پر فوری کام شروع کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے منصوبے کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن بھی تعمیراتی کام کے ساتھ ساتھ جاری رکھنے کی ہدایت کی تاکہ معیار اور قواعد و ضوابط کی آزادانہ جانچ یقینی بنائی جا سکے اور جاری کام متاثر نہ ہو۔پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ ’’گلگت بلتستان میں توانائی سب سے بڑا بحران ہے‘‘ اور عوام کو درپیش مشکلات کے پیش نظر بجلی کی قلت کے خاتمے میں ایک دن کی بھی تاخیر برداشت نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کو قریبی رابطہ برقرار رکھنے اور تمام انتظامی و طریقہ کار کی رکاوٹیں دور کرنے کی ہدایت کی تاکہ منصوبے کے تمام اجزاء تیز رفتاری سے مکمل کیے جا سکیں۔
اجلاس میں گلگت بلتستان میں سیاحت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان اور اس کے خطے کے نازک ماحولیاتی نظام پر ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔وفاقی وزیر نے گلگت بلتستان حکومت کو سیاحت کے لیے مناسب ٹیکسیشن اور ریگولیٹری فریم ورک متعارف کرانے پر غور کرنے کی ہدایت کی تاکہ اضافی آمدن حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ سیاحت کو پائیدار اور ماحول دوست بنیادوں پر فروغ دیا جا سکے۔انہوں نے خبردار کیا کہ سیاحت اور تعمیرات کی غیر منصوبہ بند توسیع گلگت بلتستان کے نازک ماحولیاتی نظام پر شدید دبائو ڈال سکتی ہے۔ انہوں نے خطے کی Tourism Carrying Capacity کا جامع مطالعہ کرانے کی ہدایت کی تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ قدرتی ماحول کو نقصان پہنچائے بغیر گلگت بلتستان کتنی سیاحتی سرگرمی برداشت کر سکتا ہے۔انہوں نے تجویز دی کہ وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان، وزارت موسمیاتی تبدیلی اور گلگت بلتستان حکومت متعلقہ ماہرین اور اداروں بالخصوص آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دیں جو یہ مطالعہ مکمل کرکے سفارشات پیش کرے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سیاحت کو منظم کرنے، غیر منصوبہ بند تعمیرات کی حوصلہ شکنی اور قدرتی ماحول و ماحولیاتی توازن کے تحفظ کے لیے جامع طریقہ کار وضع کرنا ضروری ہے۔انہوں نے ایف بی آر، وزارت خزانہ اور گلگت بلتستان حکومت کے نمائندوں اور ماہرین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی تاکہ سیاحت کے شعبے کے لیے مناسب ٹیکس فریم ورک تیار اور نافذ کیا جا سکے۔ اجلاس میں گلگت بلتستان میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے درکار مالی وسائل کی کمی کا بھی جائزہ لیا گیا۔پروفیسر احسن اقبال نے بتایا کہ وزارت منصوبہ بندی نے فروری 2025ء میں ہی وزیراعظم کو سفارش کی تھی کہ گلگت بلتستان کو بھی قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت صوبوں کی طرز پر مالیاتی فریم ورک فراہم کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پی ایس ڈی پی کے جاری منصوبوں کی مالی ضروریات دستیاب مالی گنجائش سے کہیں زیادہ ہیں۔
جاری منصوبوں کے لیے تقریباً 3 کھرب روپے کی مالی ضرورت کے مقابلے میں صرف تقریباً 1 کھرب روپے دستیاب ہیں جس کے باعث منصوبوں پر عملدرآمد میں تاخیر اور لاگت میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پائیدار حل کے لیے ایسا مناسب مالیاتی فریم ورک ضروری ہے جس کے تحت گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کو منصفانہ مالی انتظامات فراہم کیے جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کو حتمی شکل دیے جانے تک گلگت بلتستان کی فوری ترقیاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے متبادل مالیاتی انتظامات کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔اجلاس کے اختتام پر پروفیسر احسن اقبال نے ہدایت کی کہ اجلاس میں کیے گئے تمام فیصلوں، سفارشات اور ہدایات کو یکجا کرکے دو ہفتوں کے اندر عبوری رپورٹ پیش کی جائے۔انہوں نے زور دیا کہ مقررہ مدت میں عمل مکمل کیا جائے تاکہ متعلقہ وزارتیں، محکمے اور گلگت بلتستان حکومت ضروری انتظامی، ریگولیٹری اور ترقیاتی اقدامات مزید تاخیر کے بغیر شروع کر سکیں۔
وفاقی وزیر نے گلگت بلتستان کے حقیقی ترقیاتی مسائل کے حل کے لیے وفاقی حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مربوط ادارہ جاتی اقدامات، موثر پالیسی مداخلت اور ترقیاتی منصوبوں پر تیز رفتار عملدرآمد کے ذریعے خطے کی ترقی کو یقینی بنایا جائے گا۔اجلاس کے اختتام پر تمام متعلقہ وزارتوں، محکموں اور گلگت بلتستان حکومت کو متفقہ اقدامات پر تیزی سے پیش رفت، بین الادارہ جاتی رابطہ یقینی بنانے اور مقررہ مدت کے اندر پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔







