اقوام متحدہ۔16مارچ (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے خواتین کے خلاف تشدد کو روکنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران خواتین کو بے روزگاری، جنسی تشدد اور کم عمری کی شادی جیسے چیلنجز کا مردوں کی نسبت زیادہ سامنا کر نا پڑا۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے گزشتہ روز سٹیٹس آف ویمن کے اقوام متحدہ کے …
کورونا وائرس کی وبا کے دوران مردوں کی نسبت خواتین کو جنسی تشدد ، بچوں کی شادیوں اورملازمتوں سے محرومی جیسے مسائل کا زیادہ سامنا کرنا پڑا ، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔16مارچ (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے خواتین کے خلاف تشدد کو روکنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران خواتین کو بے روزگاری، جنسی تشدد اور کم عمری کی شادی جیسے چیلنجز کا مردوں کی نسبت زیادہ سامنا کر نا پڑا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے گزشتہ روز سٹیٹس آف ویمن کے اقوام متحدہ کے کمیشن(سی ایس ڈبلیو) کے 65 ویں سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران مردوں کی نسبت خواتین کو جنسی تشدد ، بچوں کی شادیوں اورملازمتوں سے محرومی جیسے مسائل کا زیادہ سامنا کرنا پڑا ہے ۔
انہوں نے حکومتی قیادت میں صنفی مساوات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کی مساوی شمولیت ایک گیم چینجر کی حیثیت رکھتی ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے صرف 22 ممالک ایسے ہیں جہاں حکومتوں یا قیادت کی سربراہ خواتین ہیں اور حکومتی سطح پر صنفی مساوات کی موجودہ شرح کے تناظر میں 2150 تک ہدف کا حصول ممکن نہیں ہو گا اور اس بات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ پہلے کی طرح آئندہ 130 سالوں میں بھی مرد ہی کو فیصلے کرنے کا اختیار ہے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنے دفاع اور تحفظ کے لیے ہتھیاروں یا اسلحہ پر کھربوں ڈالر خرچ کرتے ہیں جبکہ دنیا میں ہر 3 میں سے ایک خاتون کو تشدد کا سامنا ہے لیکن ہم خواتین پر ہونے والے تشدد کی روک تھام کے لیے کوئی اقدامات نہیں کر رہے لہذا ہمیں ا س کے خلاف ناگزیر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد کے خلاف اقوام متحدہ کے 193 اراکین کو ہنگامی پلان پر عملدرآمد کرنا ہو گا۔
اقوام متحدہ کا سٹیٹس آف ویمن کمیشن کا ہر سال 15 سے 26 مارچ تک اجلاس منعقد ہوتا ہے جس میں ہزاروں خواتین دنیا بھر میں خواتین کو درپیش تشدد، جنسی بدسلوکی، عدم مساوات اور دیگر مسائل پر بحث کرتی ہیں لیکن رواں سال کورونا وائرس کی وبا کے باعث یہ ورچوئل اجلاس ہو گا۔








