کورونا وائرس کی وبا کے معاشی اثرات کم کرنے کے لئے بینکوں اور مالیاتی اداروں نے گزشتہ سال 910.7 ارب روپے کے قرضوں کی وصولی کوموخر یا ری سٹرکچر کیا ہے، سٹیٹ بینک

اسلام آباد۔12اپریل (اے پی پی):کورونا وائرس کی وبا کے معاشی اثرات کم کرنے کے حوالے سے بینکوں اور مالیاتی اداروں نے گزشتہ ایک سال میں 910.7 ارب روپے کے قرضوں کی وصولی کوموخریاری سٹرکچر کیا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی رپورٹ کے مطابق مرکزی بینک کی ری فنانس سکیم کا آغاز گزشتہ سال 26 مارچ 2020 کو کیا گیا تھا جو رواں سال 31 مارچ 2021 …

اسلام آباد۔12اپریل (اے پی پی):کورونا وائرس کی وبا کے معاشی اثرات کم کرنے کے حوالے سے بینکوں اور مالیاتی اداروں نے گزشتہ ایک سال میں 910.7 ارب روپے کے قرضوں کی وصولی کوموخریاری سٹرکچر کیا ہے۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی رپورٹ کے مطابق مرکزی بینک کی ری فنانس سکیم کا آغاز گزشتہ سال 26 مارچ 2020 کو کیا گیا تھا جو رواں سال 31 مارچ 2021 کو ختم ہوئی ہے۔ اس سکیم کے تحت 2 اپریل 2021 تک مختلف بینکوں اور مالیاتی اداروں کی جانب سے 657 ارب روپے مالیت کے قرضوں کے اصل زر کی وصولی کی موخر جبکہ 253 ارب روپے کے قرضوں کو ری سٹرکچر کیا گیا ہے۔

اس طرح ایس بی پی کی ری فنانس سکیم کے تحت گزشتہ ایک سال کے دوران مجموعی طور پر 910.7 ارب روپے کے قرضو ں کی وصولی موخر یا ان قرضہ جات کی ری سٹرکچر کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق موخر یا ری سٹرکچر کئے گئے مجموعی قرضہ جات میں 717 ارب روپے کے کارپوریٹ قرضے جبکہ 121 ارب روپے کے مائیکرو فنانس قرضے اور 27 ارب روپے کے چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے قرضے شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق قرضوں کی ادائیگی میں التوا یا ان کی ری سٹرکچرنگ کے لئے بینکوں اور مالیاتی اداروں کو مجموعی طور پر 1.883 ملین درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن میں سے 96.92 فیصد یعنی 1.825 درخواستوں کی منظوری دی گئی ہے۔

مرکزی بینک کی رپورٹ کے مطابق سکیم سے استفادہ کرنے والوں میں مائیکرو فنانس بینکوں سے قرضے حاصل کرنے والےصارفین کی نمایاں تعداد بھی شامل ہے۔