اقوام متحدہ۔4مئی (اے پی پی):اقوام متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل( ای سی او ایس او سی) کے صدر و اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کورونا وائرس کے بدترین بحران سے نمٹنے اور بحالی کے لیے دنیا بھر کی ریاستوں ، کمپنیوں اور سول سوسائٹی کے مابین شراکت تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کبھی شراکت داریاں قائم کرنے …
کورونا وائرس کے بدترین بحران سے نمٹنے اور بحالی کے لیے دنیا بھر کی ریاستوں ، کمپنیوں اور سول سوسائٹی کے مابین شراکت تشکیل دینے کی ضرورت ہے، اقوام متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل کے صدر منیر اکرم کا سالانہ پارٹنر شپ فورم سے خطاب

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔4مئی (اے پی پی):اقوام متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل( ای سی او ایس او سی) کے صدر و اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کورونا وائرس کے بدترین بحران سے نمٹنے اور بحالی کے لیے دنیا بھر کی ریاستوں ، کمپنیوں اور سول سوسائٹی کے مابین شراکت تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کبھی شراکت داریاں قائم کرنے کی ضرورت تھی تو وہ اس وقت ہے اور کورونا وائرس کی وبا کو شکست دینے کے ہدف کے حصول کے لیے فوری طور پر ایسی شراکت ضروری ہے۔
انہوں نے گزشتہ روز ای سی او ایس او سی کے زیر اہتمام سالانہ پارٹنر شپ فورم کے دوران اپنے خطاب میں کہا کہ اس وبا کو شکست دینے کے لیے عالمی سطح پر نہ صرف کورونا وائرس سے بچائو کی ویکسین کی فوری اور منصفانہ رسائی کی ضرورت ہے بلکہ دنیا بھر میں اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے جب تک ہر کوئی کورونا ویکسین نہیں لگوالیتا اس وقت تک کوئی محفوظ نہیں ہے جبکہ ممالک کو بھی لاکھوں افراد کو انتہائی غربت اور بدحالی کی طرف جانے سے روکنے کے لیے مل کر کام کرنا ہو گا۔ انہوں نے ممالک ، کمپنیاں اور سول سوسائٹی کو اکٹھا کرنے میں اقوام متحدہ کے منفرد کردار کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ متعدد شعبوں میں شراکت کے زریعے کورونا وائرس کے خلاف اقدامات اور پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جی) کے حصول کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ای سی او ایس او سی کے صدر منیر اکرم نے کہا کہ انتہائی غریب افراد اور سماجی تحفظ کے اداروں کی براہ راست اور بالواسطہ مالی مدد کرنے کی ضرورت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کی زندگیوں اور زریعہ معاش کو بچانے کے لیے انتہائی غریب ممالک کی قرض ریلیف ، ہنگامی امداد ، اور رعایتی مالی اعانت فراہم کرنے میں مدد کی جائے ۔
انہوں نے کہا کہ وبا سے بحالی کو برقرار رکھنا بھی ضروری ہے کیونکہ امیر ممالک نے اپنی معیشت کی بحالی کے لیے 17 ٹریلین ڈالر مختص کیے ہیں جبکہ ترقی پزیر ممالک کو نہ صرف وبا سے بحالی اور پائیدار ترقی کے راستے پر واپس جانے کے لیے تقریباً 4.3 ٹریلین ڈالرز کی ضرورت ہو گی۔ منیر اکرم نے کہا کہ عالمی شراکت داری کو قرضوں کی تنظیم نو ، کم سود والے قرضوں اور زیادہ سے زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری جیسے مالی مسائل کے حل کو فروغ دینے میں مدد ملنی چاہئے جبکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ذریعہ تشکیل کردہ غیر ملکی ریزرو اثاثوں کی ایک نئی قسم نئے ایس ڈی آر میں 650 ارب ڈالر مختص کرنا ایک اور اہم جز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اقوام کے مابین اور اس کے اندر اصلاحات اور مساوی تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکس اور ٹیکنالوجی فروغ کے اقدامات کے زریعے ساختی طور پر حوصلہ افزائی کی گئی معاشی اور معاشرتی عدم مساوات کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ لچکدار اور ماحول دوست دوستانہ عالمی معیشت لانےکے لیے آئندہ 3 دہائیوں میں پائیدار انفراسٹرکچر میں لگ بھگ 100 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہو گی۔
ECOSOC chief Munir Akram calls for partnerships to recover from coronavirus crisis
UNITED NATIONS, May 04 (APP):The President of UN Economic and Social Council (ECOSOC), Pakistani Ambassador Munir Akram, has underscored the need for building partnerships between states, companies and civil society across the world to respond and recover from the devastating coronavirus crisis.
Promote financing solutions








