کپاس کے کاشتکار ہفتے میں دو بار پیسٹ سکاؤٹنگ کریں، محکمہ زراعت پنجاب

لاہور۔13ستمبر (اے پی پی):کپاس کے کاشتکار فصل کو پانی کی کمی ہرگز نہ آنے دیں اور آبپاشی کا عمل واٹر سکاؤٹنگ کے بعد کریں۔ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق کپاس کی فصل کو آخری پانی موسمی مناسبت سے 15 اکتوبر تک لگائیں،فصل کو آبپاشی ترجیحاً شام کے وقت کریں۔کپاس کی فصل کو ہفتے میں دو بار پیسٹ سکاؤٹنگ کریں اور اگر کیڑوں کا حملہ نقصان کی معاشی حد سے زیادہ …

لاہور۔13ستمبر (اے پی پی):کپاس کے کاشتکار فصل کو پانی کی کمی ہرگز نہ آنے دیں اور آبپاشی کا عمل واٹر سکاؤٹنگ کے بعد کریں۔ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق کپاس کی فصل کو آخری پانی موسمی مناسبت سے 15 اکتوبر تک لگائیں،فصل کو آبپاشی ترجیحاً شام کے وقت کریں۔کپاس کی فصل کو ہفتے میں دو بار پیسٹ سکاؤٹنگ کریں اور اگر کیڑوں کا حملہ نقصان کی معاشی حد سے زیادہ ہو تو محکمہ زراعت کے مقامی عملے کے مشورہ سے زہروں کا سپرے کریں۔ ترجمان نے ہدایت کی کہ ایک ہی گروپ کے زہروں کا سپرے بار بار نہ کریں کیونکہ اس سے کیڑوں کی متعلقہ زہروں کے خلاف قوت مدافعت بڑھ جاتی ہے۔

اس کے علاوہ کاشتکار گلابی سنڈی کے حملے سے بچنے کیلئے جنسی پھندوں کا استعمال کریں۔ ترجمان نے بتایا کہ کپاس کی غلط طریقہ سے چنائی کی وجہ سے کپاس کی کوالٹی اور معیار دونوں متاثر ہوتے ہیں۔ آلودگی سے پاک کپاس کے حصول کے لیے کپاس کی چنائی احتیاط سے کریں کیونکہ آلودگی سے پاک کپاس کے نرخ زیادہ ملتے ہیں۔ صاف اور معیاری کپاس کے حصول کے لیے محکمہ زراعت کی سفارشات اور احتیاطی تدابیر کو مدِّنظر رکھیں۔ کپاس کی چنائی ہمیشہ اس وقت کریں جب کپاس سے شبنم کی نمی بالکل ختم ہو جائے۔ کاشتکار چنائی اس وقت شروع کریں جب تقریباً 50 فیصد سے زیادہ ٹینڈے کھل چکے ہوں۔

چنائی ہمیشہ پودے کے نچلے حصے کے کھلے ہو ئے ٹینڈوں سے شروع کریں اور بتدریج اوپر کو چنائی کرتے جائیں تاکہ نیچے کے کھلے ہو ئے ٹینڈے خشک پتوں، چھڑیوں یا کسی دوسری چیز کے گرنے سے محفوظ رہیں۔ چنائی کرنے والی خواتین سر پر سفید سوتی کپڑے سے بالوں کو اچھی طرح ڈھانپ کر چنائی کریں تاکہ سر کے بال پھٹی میں شامل ہو کر روئی کی کوالٹی خراب نہ کریں۔ چنائی کے وقت ٹینڈے پودوں سے نہیں توڑنے چاہیے بلکہ ان میں سے کپاس چن لی جائے اور ٹینڈوں میں کپاس بالکل نہیں رہنی چاہیے۔

کپاس کی چنائی کا درمیانی وقفہ 15 سے 20 دن رکھیں۔ چنائی کرتے وقت زمین پر گری ہوئی پھٹی کی پتی وغیرہ اچھی طرح صاف کرلیں ۔ بارشوں اور نقصان دہ کیڑوں سے متاثرہ کپاس اور آخری چنائی کے کچے ٹینڈوں سے حاصل ہونے والی پھٹی کو علیحدہ رکھیں اور اس پھٹی کو علیحدہ ہی فروخت کریں۔ گلابی سنڈی سے متاثرہ ٹینڈوں کی کپاس کی چنائی بالکل علیحدہ کریں اور اسے علیحدہ ہی رکھیں۔ کپاس کی چنائی کرنے والی خواتین کو مناسب معاوضہ دیں تاکہ چنائی کرنے والی خواتین اجرت کے حساب سے صفائی کو مدنظر رکھیں۔

مزید خبریں