کھیلوں کی فیڈریشنز کے الیکشن اگست میں ہوں گے، حساب نہ دینے والی فیڈریشنز کو مزید گرانٹس نہیں ملیں گی، ڈی جی پاکستان اسپورٹس بورڈ

اسلام آباد۔6فروری (اے پی پی):ڈائریکٹر جنرل پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) محمد یاسر پیرزادہ نے کہا ہے کہ کھیلوں کی فیڈریشنز کی خودمختاری کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکشن کا طریقہ کار وضع کیا جا رہا ہے، پی ایس بی رولز کے مطابق دو مدتیں مکمل کرنے والے فیڈریشن عہدیداروں نے عہدوں سے الگ ہونے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے کلبز کی …

اسلام آباد۔6فروری (اے پی پی):ڈائریکٹر جنرل پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) محمد یاسر پیرزادہ نے کہا ہے کہ کھیلوں کی فیڈریشنز کی خودمختاری کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکشن کا طریقہ کار وضع کیا جا رہا ہے، پی ایس بی رولز کے مطابق دو مدتیں مکمل کرنے والے فیڈریشن عہدیداروں نے عہدوں سے الگ ہونے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے کلبز کی سکروٹنی کا مرحلہ جاری ہے اور الیکشن اگست میں متوقع ہیں۔وہ جمعہ کو قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس کو بریفنگ دے رہے تھے۔ آئی پی سی قائمہ کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینر مہرین رزاق بھٹو کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا ۔ ایم این اے انجم عقیل خان ،خواجہ اظہار الحق ویڈیو لنک کے زریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔

ڈی جی پی ایس بی نے کمیٹی کو بتایا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں 53 فیڈریشنز کو ایک ارب 6 کروڑ کی گرانٹس دی گئیں ۔ دنیا کے مختلف ممالک میں پی ایس بی کی مالی معاونت سے جانے والی فیڈریشنز میں میڈلز حاصل کرنے کی صلاحیت موجود ہے لیکن کاکردگی تسلی بخش نہیں ہے۔ انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ پہلی مرتبہ ہم نے کھیلوں کی فیڈریشنز کے لئے رولز اینڈ فنڈنگ ریگولیشنز بنائے اور اسی کے تحت گزشتہ تین سالوں میں دی گئی فنڈنگ کا حساب مانگ رہے ہیں ،اکثر فیڈریشنز اس عمل سے نالاں نظر آتی ہیں تاہم جو فیڈریشنز اپنے خرچ کا حساب نہیں دیں گی انہیں مزید گرانٹس نہیں دیں گے۔ ایتھلیٹس کو مشکل پیش نہ آئے اس لئے ہم نے فیصلہ کیا کہ ایتھلیٹ کو براہ راست فنڈنگ اور سفری ٹکٹس فراہم کریں گے ، ہم نے ہاکی فیڈریشن کے کھلاڑیوں کو بھی ایسے ہی فنڈنگ کی ہے۔

میٹی کی کنوینر مہرین رزاق بھٹو نے منسٹری آئی پی سی کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات غیر مناسب انداز میں دینے پر وزارت کے متعلقہ حکام کی سرزنش کی۔ کمیٹی اراکین کی جانب سے انٹرنیشنل مقابلوں میں آفیشلز کی زیادہ تعداد کی شرکت پر سوالات اٹھائے گئے جس پر پی ایس بی کی جانب سے بتایا گیا کہ ہر کھیل کے منیجر، کوچز اور ٹیم کا انتخاب کرنا فیڈریشنز کا اختیار ہوتا ہے۔ پی ایس پی صرف پی او اے کی سفارشات پر عمل کرتا ہے ۔ایڈیشنل سیکرٹری وزارت آئی پی سی کا کہنا تھا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد سپورٹس صوبائی معاملہ ہے، ہم صوبائی خودمختاری میں مداخلت نہیں کرتے۔

ڈی جی پی ایس بی نے کمیٹی کی جانب سے ہاکی فیڈریشن کے الیکشن کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر بتایا کہ ہم نے کمیٹی کی ہدایات پر دوبارہ پی ایس بی پورٹل ہاکی کلبز رجسٹریشن کے لئے اوپن کیا تھا جو کہ 3 فروری کو بند کردیا گیا، اب رجسٹریشن کے حوالے سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ اب کلبز کی سکروٹنی ہو گی اور اسکے بعد الیکشن شیڈول کی جانب جائیں گے ، الیکشن اگست کے مہینے میں متوقع ہیں۔کمیٹی نے وزارت آئی پی سی اور پی ایس بی کو ہدایت دی کہ وہ 19 فروری کے اجلاس میں فنڈنگ، ڈویلپمنٹ ورک کی تفصیلات ، فیڈریشنز کے الیکشنز بارے جامع رپورٹ کمیٹی کو پیش کریں ۔