ڈیرہ اسماعیل خان ۔ 19 جنوری (اے پی پی):جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ کیمونزم اور سرمایہ دارنہ جمہوریت کی ناکامی کے بعد عالمی نظام میں غیر معمولی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں ، پرانے سیاسی و اقتصادی نظاموں کی ٹوٹ پھوٹ نے دنیا کو جھنجھوڑ دیا ہے ، عالمی سیاست کے تیزی سے تبدیل ہوتے تناظر میں پاکستان کی اجتماعی قومی قیادت …
کیمونزم اور سرمایہ دارنہ جمہوریت کی ناکامی کے بعد عالمی نظام میں غیر معمولی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں ، مولانا فضل الرحمن

مزید خبریں
ڈیرہ اسماعیل خان ۔ 19 جنوری (اے پی پی):جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ کیمونزم اور سرمایہ دارنہ جمہوریت کی ناکامی کے بعد عالمی نظام میں غیر معمولی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں ، پرانے سیاسی و اقتصادی نظاموں کی ٹوٹ پھوٹ نے دنیا کو جھنجھوڑ دیا ہے ، عالمی سیاست کے تیزی سے تبدیل ہوتے تناظر میں پاکستان کی اجتماعی قومی قیادت کی بصیرت کی آزمائش شروع ہے ، ان حالات میں سیاسی تنازعات کو گہرا کرنے کی بجائے قومی ہم آہنگی کو بڑھانے کی ضرورت ہو گی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے شورکوٹ میں اپنی رہائش پر سینئر صحافیوں ، وانا اور لکی مروت کے عمائدین،معززین علاقہ ،مصطفی ریحان ، منصور ریحان و دیگر سے ملاقات کے دوران کیا، اس موقع پر مرکزی ڈیجیٹل میڈیا کمیٹی کے سربراہ انجینئر مولانا ضیاء الرحمن بھی موجود تھے، مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پچھلے دو سو سال میں ہمارے خطہ نے بادشاہتوں ، نوآبادیاتی جبریت ، جمہوریت اور کیمونزم سمیت بہت سے نظام ہائے سیاست کو آزمایا ،ان میں سے کسی نے بھی طاقت کے ارتکاز کے سوا فلاح انسانیت کا فرض پورا نہیں کیا ، اس وقت دنیا کے تمام سیاسی نظام نوع انسانی کے دکھوں کا مداوا کرنے اور فلاحی معاشروں کے قیام کا مقصد حاصل کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں ۔
سترہویں صدی میں نسل انسانی کو بتایا گیا کہ تمام انسانی مسائل کا حل سائنس کی ترقی میں ہے لیکن سائنس کی ترقی نوع انسانی کی فلاح کی بجائے طاقت کے حصول کا ذریعہ اور خونریزی میں اضافہ کا سبب بنی ، بڑی طاقتوں نے ایٹم بم ، ہائیڈروجن بم اور ایسی بے رحمی جنگیں مشین تیار کر لی ، جس نے کروڑوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ، ابھی حال ہی میں اسرائیل نے غزہ کی سویلین آبادی کو کیمائی ہتھیاروں سے نشانہ بنا کر 80 ہزار زیادہ بے گناہ شہریوں کو شہید کر دیا ۔
امریکا کی طرف وینزویلا کے صدر کو اغوا کرنے کے بعد دنیا ایٹمی جنگ کے خطرات سے دوچار ہے یعنی سائنس نے انسانیت کو موت کی دہلیز تک پہنچا دیا ۔ مغرب میں نشا ثانیہ اور روش خیالی کی تحریکوں نے زندگی کی مقصدیت اور خاندانی نظام کو تباہ کر دیا ،مغرب کا مرد اداس ، عورت مغموم اور ہر انسان پرہجوم تنہائی کا شکار ہے ، دیار مغرب کے فلسفی اب زندگی کو مقصدیت سے ہم کنار کرنے کے لئے ہاتھ پائوں مار رہے ہیں ۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ انسان کو اپنے تجربات اور مشاہدہ سے سیکھنا چاہے ، ہمارے اہل دانش ، سیاستدان ،بیوروکریٹ اور فوجی قیادت اجتماعی دانش کو برقرار لا کر اپنے تاریخی شعور ، تہذیبی پس منظر اور سماجی اقدار کو سامنے رکھ کر عہد جدید کے تقاضوں کے مطابق ایک ایسے شورائی نظام کو استوار کرنے کے لئے بحث کا آغاز کریں جو مغربی جمہوریت ، کیمونزم ، مذہبی آمریت اور بادشاہت کا قابل عمل متبادل اور فطری لچک کا حامل ہو ۔
بلاشبہ ہم ایک ایسے فلاحی معاشرے کو ریگولیٹ کرنے والا سیاسی سسٹم پیش کر سکتے ہیں ، جس میں عوام کے حق حاکمیت کا تحفظ اور حکمرانوں کو عوام کے سامنے جوابدہ بنانے کی اخلاقی اقدار شامل ہوں۔







