وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ کیمیکل کی صنعت پاکستان کی اقتصادی ترقی، برآمدات کے فروغ، صنعتی جدت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مرکزی کردار ادا کر سکتی ہے،
کیمیکل صنعت پاکستان کی معاشی ترقی وبرآمدات میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے،پروفیسر احسن اقبال
لاہور۔6جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ کیمیکل کی صنعت پاکستان کی اقتصادی ترقی، برآمدات کے فروغ، صنعتی جدت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مرکزی کردار ادا کر سکتی ہے، پاکستان کو علم، تحقیق، ٹیکنالوجی اور صنعت پر مبنی ترقیاتی ماڈل اختیار کرنا ہوگا تاکہ ملک کو ایک مضبوط اور برآمدات پر مبنی معیشت میں تبدیل کیا جا سکے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے ہفتہ کے روز یہاں ایکسپو سینٹر میں پاکستان کیمیکل ایکسپو 2026 سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ کیمیکل انڈسٹری کو دنیا بھر میں ’’تمام صنعتوں کی ماں‘‘ کہا جاتا ہے کیونکہ زراعت، ٹیکسٹائل، ادویات، تعمیرات، آٹوموبائل، الیکٹرانکس اور توانائی سمیت تقریبا ہر شعبے کی بنیاد کیمیکل صنعت پر استوار ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر فولاد صنعتی ترقی کا ڈھانچہ ہے تو کیمیکل صنعت اس کے جسم میں دوڑنے والا خون ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ عالمی کیمیکل صنعت کا حجم چھ ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے ، چین، جرمنی، جنوبی کوریا، سنگاپور، ملائیشیا اور ویتنام جیسے ممالک نے اپنی صنعتی ترقی کی بنیاد مضبوط کیمیکل اور پیٹروکیمیکل شعبوں پر رکھی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بھی اسی راستے پر چلتے ہوئے تحقیق، جدت، ہنرمند افرادی قوت اور جدید صنعتی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر سال اربوں ڈالر مالیت کے کیمیکلز، پولیمرز اور صنعتی خام مال درآمد کرتا ہے جبکہ ان میں سے بڑی تعداد مقامی سطح پر تیار کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہر درآمد شدہ کیمیکل کے پیچھے ایک فیکٹری، ایک سرمایہ کاری، ایک روزگار اور ایک برآمدی موقع پوشیدہ ہے۔وفاقی وزیر نے کہا ک’’اڑان پاکستان‘‘ پروگرام کے تحت برآمدات، ڈیجیٹل معیشت، ماحولیات، توانائی اور سماجی بااختیاری کے اہداف کے حصول میں کیمیکل صنعت اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر پاکستان کو 2035 تک 100 ارب ڈالر برآمدات کے ہدف تک پہنچنا ہے تو خام مال کے بجائے ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمدات کو فروغ دینا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، آٹومیشن اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز جدید صنعتی ترقی کا لازمی حصہ بن چکی ہیں، اس لیے پاکستانی صنعت کو چوتھے صنعتی انقلاب کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا۔ انہوں نے گرین کیمسٹری، ری سائیکلنگ، بائیو بیسڈ مٹیریلز اور ماحول دوست صنعتی طریقوں کو مستقبل کی معیشت کے لیے ناگزیر قرار دیا۔احسن اقبال نے پیٹروکیمیکل صنعت، اسپیشلٹی کیمیکلز، فارماسیوٹیکل اجزا، ایگروکیمیکلز، معدنی پراسیسنگ اور گرین مٹیریلز کو پاکستان کے لیے غیر معمولی مواقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ بدلتی ہوئی عالمی سپلائی چینز پاکستان کو صنعتی ترقی کا تاریخی موقع فراہم کر رہی ہیں۔انہوں نے صنعت، حکومت، جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان مضبوط شراکت داری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تحقیق و ترقی، ہنرمند افرادی قوت، عالمی معیار، جدید ٹیکنالوجی اور خصوصی صنعتی کلسٹرز کے قیام کے بغیر عالمی مسابقت حاصل نہیں کی جا سکتی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کی نئی داستان کھپت نہیں بلکہ پیداوار، درآمدات نہیں بلکہ برآمدات اور قرضوں نہیں بلکہ جدت، سرمایہ کاری اور مسابقت کی بنیاد پر لکھی جائے گی۔انہوں نے اس موقع پر قومی اعتماد اور پاکستانیت کے فروغ کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ آج کی دنیا میں جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ بیانیوں، اطلاعات اور ذہنوں کے میدان میں بھی لڑی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ دشمن قوموں کے اعتماد اور امید کو کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس لیے پاکستانیوں کو اپنی صلاحیتوں، کامیابیوں اور اپنے روشن مستقبل پر یقین رکھنا ہوگا۔احسن اقبال نے کہا کہ پاکستانیت ایک جذبہ، مشترکہ خواب اور اجتماعی ذمہ داری کا نام ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ مایوسی کے بیانیے کو مسترد کریں، امید واعتماد کو فروغ دیں اور پاکستان کو ترقی، تحقیق، صنعت و خوشحالی کی نئی منزلوں تک پہنچانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔









