فیصل آباد۔ 13 دسمبر (اے پی پی):ڈائریکٹر آئل سیڈریسرچ انسٹیٹیوٹ ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آبادمحمد آفتاب نے بتایاکہ پاکستان سالانہ اپنی ضرورت کا صرف 14فیصد 462ہزار ٹن خوردنی تیل پیدا اور 350بلین روپے کے قریب 86فیصد 3264ہزار ٹن تیل درآمد کرتا ہے لہٰذاکینولا اور سورج مکھی کی زیادہ سے زیادہ کاشت کرکے تیل کی ملکی ضروریات پوری کرنے سمیت قیمتی زر مبادلہ بچایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ …
کینولا وسورج مکھی کی زیادہ سے زیادہ کاشت کرکے تیل کی ملکی ضروریات پوری کرنے سمیت قیمتی زر مبادلہ بچایا جاسکتا ہے، ڈائریکٹر آئل سیڈ
فیصل آباد۔ 13 دسمبر (اے پی پی):ڈائریکٹر آئل سیڈریسرچ انسٹیٹیوٹ ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آبادمحمد آفتاب نے بتایاکہ پاکستان سالانہ اپنی ضرورت کا صرف 14فیصد 462ہزار ٹن خوردنی تیل پیدا اور 350بلین روپے کے قریب 86فیصد 3264ہزار ٹن تیل درآمد کرتا ہے لہٰذاکینولا اور سورج مکھی کی زیادہ سے زیادہ کاشت کرکے تیل کی ملکی ضروریات پوری کرنے سمیت قیمتی زر مبادلہ بچایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت کینولا کی کاشت کا بالکل صحیح وقت ہے۔انہوں نے بتایا کہ کینولا اور سورج مکھی کا تیل صحت کیلئے موزوں ترین ہے اسلئے درآمد شدہ خوردنی تیل کا استعمال ترک کیا جائے جبکہ سورج مکھی اور کینولا کی کاشت میں اضافہ کرنا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے اور محکمہ زراعت اس حوالے سے فعال کردار ادار کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوری میں سورج مکھی کی کا شت کا آغاز ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ درآمد کردہ خوردنی تیل کھانے کیلئے مضر اور بنیادی طور پر صابن اور کاسمیٹکس بنانے کے کام آتا ہے جو عام درجہ حرارت پر سالڈ رہتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جسم میں جا کر خون کی نالیوں میں جم جاتا اور بہت سی خطرناک بیماریوں کا باعث بنتا ہے جن میں دل کی بیماریاں سر فہرست ہیں۔
انہوں نے اس ضرورت پر زور دیا کہ ہم کاشتکاروں میں آگاہی پیدا کریں کہ کینولا کی کاشت کو بڑھایا جائے تاکہ ملکی سرمائے میں اضافہ ہو اور درآمدات میں کمی ہو۔انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ حکومت نے انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے کسان پیکیج کے تحت تیلد ار اجناس کی کاشت پر سبسڈی سکیم متعارف کرائی ہے جو ملکی کفالت کی طرف پہلا قدم ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک کسان دس ایکڑ تک کاشت کے لیے سبسڈی سکیم سے فائدہ اٹھا سکے گا۔








