کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات پر انحصار اب کینیڈا کے لیے فائدہ کی بجائے نقصان بن گیا ہے، اس لئے ملک کواپنی تجارت کودنیا کے دوسرے ممالک تک پھیلانا ہو گا۔
کینیڈا کے وزیر اعظم کا امریکا کے ساتھ جاری تجارتی کشیدگی کے درمیان ملکی معیشت کو متنوع بنانے پر زور

مزید خبریں
اوٹاوا ۔20اپریل (اے پی پی):کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات پر انحصار اب کینیڈا کے لیے فائدہ کی بجائے نقصان بن گیا ہے، اس لئے ملک کواپنی تجارت کودنیا کے دوسرے ممالک تک پھیلانا ہو گا۔ شنہوا کے مطابق سوشل میڈیا پر جاری اپنی ویڈیو تقریر ”فارورڈ گائیڈنس” میں مارک کارنی نے کینیڈا اور امریکا کے موجودہ تعلقات کا جائزہ پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ امریکا نے تجارتی پالیسی کے حوالے سے اپنا بنیادی رویہ تبدیل کر لیا ہے اور اس نے محصولات (ٹیرف) کو اس سطح تک بڑھا دیا ہے جو آخری بار عظیم معاشی بحران (گریٹ ڈپریشن) کے دوران دیکھی گئی تھی۔’
انہوں نے ان بھاری محصولات کا حوالہ دیا جو اس وقت کینیڈا کی آٹوموٹیو، سٹیل اور لکڑی کی صنعتوں کو متاثر کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 2025 کے آغاز سے امریکا نے کینیڈا کی برآمدات پر کئی سخت ٹیرف برقرار رکھے ہیں، جن میں مختلف اشیا پر 25 فیصد اور سٹیل و ایلومینیم پر 50 فیصد تک ٹیکس شامل ہے۔ ان اقدامات نے شمالی امریکا کی سپلائی چینز کو بری طرح متاثر کیا ہے اور کینیڈا کو نئے اقتصادی راستے تلاش کرنے پر مجبور کیا ہے۔مارک کارنی نے کہا کہ ان کی حکومت نے گزشتہ ایک سال میں چار براعظموں میں 20 نئے تجارتی معاہدے کیے ہیں۔
انہوں نے ایک حکمت عملی پیش کی جس میں عالمی سرمایہ کاری کو راغب کرنا، کینیڈا کے اندر بین الصوبائی تجارتی قوانین کو ہم آہنگ کرنا اور غیر ملکی اثرات سے بچاؤ کے لیے صاف توانائی کی پیداوار کو دوگنا کرنا شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ امید کوئی منصوبہ نہیں اور ماضی کی یادیں کوئی حکمت عملی نہیں۔ اس بیان کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ کینیڈا اب امریکا کے ساتھ تعلقات میں پرانے حالات کی واپسی کا انتظار نہیں کرے گا۔انہوں نے عوام کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت تجارتی تنوع کے منصوبوں پر باقاعدہ اپ ڈیٹس فراہم کرے گی، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ معاشی ڈھانچے میں تبدیلی کا عمل وقت طلب ہوگا۔








