"ڈپٹی کمشنر لاڑکانہ طارق منظور چانڈیو نے کہا ہے کہ محرم الحرام کے دوران ضلعی انتظامیہ نے امن و امان، صفائی ستھرائی، بجلی و گیس کی فراہمی اور دیگر ضروری سہولیات کو یقینی بنایا، جس کے باعث ایامِ محرم خیر و عافیت اور اتحاد و بھائی چارے کی فضا میں گزرے۔”
ڈپٹی کمشنر لاڑکانہ کی زیر صدارت چہلم حضرت امام حسینؓ کے انتظامات بارے اعلیٰ سطحی اجلاس کا انعقاد

مزید خبریں
لاڑکانہ۔28 جولائی(اے پی پی):ڈپٹی کمشنر لاڑکانہ طارق منظور چانڈیو نے کہا ہے کہ گزشتہ محرم الحرام کے دوران ضلعی انتظامیہ نے امن و امان برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ صفائی ستھرائی، بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے اور دیگر تمام ضروری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا، جس کے باعث محرم الحرام کے ایام خیر و عافیت سے گزرے اور اتحاد و بھائی چارے کی فضا بھی برقرار رہی۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار ڈپٹی کمشنر آفس لاڑکانہ کے دربار ہال میں 20 صفر کو چہلم حضرت امام حسینؓ کے انتظامات کے سلسلے میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ محرم الحرام کے دوران تمام اداروں نے اپنی ذمہ داریاں بہترین انداز میں انجام دیں، کسی بھی قسم کا ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا اور محرم الحرام پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوا۔اس موقع پر انہوں نے سیپکو اور سوئی سدرن گیس کے حکام کو ہدایت کی کہ چہلم کے دوران بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ نہ کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر بھی نظر رکھی جائے تاکہ کسی قسم کی اشتعال انگیز یا نفرت آمیز پوسٹس نشر نہ ہوں۔انہوں نے بتایا کہ آئندہ ربیع الاول کے انتظامات کے حوالے سے ایک اجلاس رواں ماہ کے آخر میں منعقد کیا جائے گا۔ انہوں نے محکمہ صحت کے افسران کو ہدایت دی کہ محرم الحرام کی طرح ڈاکٹروں، میڈیکل کیمپس اور ادویات کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو کسی قسم کی شکایت نہ ہو۔ڈپٹی کمشنر نے تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام سے اپیل کی کہ وہ اپنے خطابات اور مجالس میں مذہبی ہم آہنگی، امن و امان اور بھائی چارے کا پیغام دیں تاکہ کسی کی دل آزاری نہ ہو۔اجلاس میں علمائے کرام نے امن و امان، صفائی ستھرائی، بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ سے متعلق اپنے تحفظات اور تجاویز پیش کیں اور انتظامیہ سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ کے معاونِ خصوصی خیر محمد شیخ نے کہا کہ لاڑکانہ کئی برسوں سے امن و امان کی مثال رہا ہے، جہاں تمام سیاسی جماعتیں باہمی تعاون سے کام کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران وہ حکومت سندھ کی جانب سے قائم وزیراعلیٰ ہاؤس کے شکایتی سیل میں موجود تھے اور پورے سندھ، خصوصاً ضلع لاڑکانہ سے کسی بھی قسم کی شکایت موصول نہیں ہوئی۔اجلاس کے دوران ایس ایس پی لاڑکانہ نے علمائے کرام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے پیروکاروں، خصوصاً نوجوانوں، کو ہدایت کریں کہ کسی کی دل آزاری نہ کریں، ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں اور جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں تاکہ امن و امان، بھائی چارہ اور مذہبی ہم آہنگی برقرار رہ سکے۔اجلاس میں تمام متعلقہ محکموں کے افسران نے بھی شرکت کی۔







