عوام اور میڈیا کے لیے میرے دروازے چوبیس گھنٹےکھلے ہیں، ڈی پی او سرگودھا

"ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سرگودھا توقیر محمد نعیم نے کہا ہے کہ عام آدمی اور میڈیا کے لیے ان کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں، جبکہ عوامی خدمت، شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور ان کی زندگی آسان بنانا ان کی اولین ترجیحات ہیں۔”

سرگودھا۔ 28 جولائی (اے پی پی):ضلع سرگودھا میں حال ہی میں تعینات ہونے والے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر توقیر محمد نعیم نے کہا ہے کہ عام آدمی اور میڈیا کے لیے میرے دروازے ہر وقت کھلے ہیں عوامی خدمت،شہریوں کی جان ومال کا تحفظ اور ان کی زندگی آسان بنانا میری اولین ترجیحات ہیں۔

دُنیا کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی جواب دہ ہوں، اس لیے پولیسنگ کوصرف ملازمت نہیں بلکہ عبادت سمجھ کر انجام دیتا ہوں۔ڈی پی او توقیر محمد نعیم نے چارج سنبھالنے کے بعد میڈیا سے پہلی ملاقات کے دوران اپنی ترجیحات اور پولیسنگ پالیسی واضح کرتےہوئےکہاکہ کرائم کنٹرول، بدمعاشی کلچر کا خاتمہ، منشیات کے خلاف مؤثر کارروائی اور شہریوں کو فوری انصاف کی فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا ہو یا گلی محلہ، بازار ہو یا شہر، بدمعاشی اور غنڈہ کلچر کی کوئی گنجائش نہیں۔ ایسے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی جو شہریوں کو خوفزدہ یا پریشان کرتے ہیں۔ منشیات فروشی کے خلاف بھی زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی، کسی کو کسی کاگھراُجاڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔توقیر محمد نعیم کا کہنا تھا کہ جب سے پولیس سروس میں آیا ہوں، جرائم، بدمعاشی اور منشیات کے خلاف کارروائی کو عبادت سمجھ کر انجام دیتا ہوں۔ شہریوں کو یقین دلاتا ہوں کہ مقدمات کی تفتیش اور پولیس کارروائیوں میں میرٹ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ڈی پی او نے کرپشن کے حوالے سے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ کرپشن کی روک تھام کے لیے ہر سطح تک جائیں گے، عوام کا خون چوسنے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ سود کو بھی معاشرے کا ناسور قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے خلاف بھی قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کی روک تھام کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے پولیس کے ساتھ ساتھ کمیونٹی، والدین اور تعلیمی اداروں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پولیس اور معاشرے کے درمیان مضبوط رابطہ قائم کرکے جرائم کی روک تھام کو مزید مؤثر بنایا جاسکتا ہے۔ڈی پی او توقیر محمد نعیم نے کہا کہ گلی محلوں کی سطح پر مصالحتی کونسلز قائم کرکے بہت سے بڑے مسائل تھانے تک پہنچنے سے پہلے ہی حل کیے جاسکتے ہیں۔ ضلع بھر میں دیانتدار اور باکردار افراد پر مشتمل مصالحتی کونسلز تشکیل دی جائیں گی اور کوشش ہوگی کہ 50 سے 60 فیصد چھوٹے نوعیت کے عوامی تنازعات مقامی سطح پر مصالحت کے ذریعے حل ہوں۔انہوں نے کہا کہ اصل پبلک سرونٹ وہی ہے جو کمیونٹی کے قریب ہو اور لوگوں کے مسائل کو سمجھتاہو۔میں دفترمیں بیٹھ کرپولیسنگ کرنے والا افسر نہیں ہوں، تھانوں کے دورے کرکے خود کارکردگی چیک کرتاہوں اورپولیس افسران واہلکاروں کی کارکردگی کا جائزہ لیتا رہوں گا۔توقیر احمد نعیم نے کہا کہ جو شہری پولیس کو درخواست دیتا ہے، اسے سنا جانا اس کا بنیادی حق ہے اور پولیس کی ذمہ داری ہے کہ اس کی شکایت کا قانون اور میرٹ کے مطابق ازالہ کرے۔ کسی مظلوم کو انصاف کے لیے دربدر نہیں ہونا پڑے گا۔سوشل میڈیا کے حوالے سے ڈی پی او نے کہا کہ مثبت اور ذمہ دارانہ استعمال کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، تاہم سوشل میڈیا پر غیر ذمہ داری، جھوٹ، افواہوں یا کسی کی عزت و جان کو نقصان پہنچانے والے عمل کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ڈی پی او توقیر محمد نعیم نے مزید کہا کہ سرگودھا پولیس کو عوام دوست، میرٹ پر مبنی، جواب دہ اور جرائم کے خلاف مؤثر فورس بنانا ان کا عزم ہے۔ شہری پولیس کا ساتھ دیں، جرائم اور منشیات فروشوں کی بروقت اطلاع دیں، پولیس ان کے اعتماد پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کرے گی۔